اسلام آباد: الاءنس فار ٹوبیکو اینڈ نکوٹین کنٹرول (ATNiC)، جو تمباکو نوشی کے تدارک اور عوامی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ممتاز تنظیموں کا ایک اتحاد ہے، نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی ماہرین مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کا مقصد پاکستان میں تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کی بدلتی ہوءی صورتحال کا جاءزہ لینا اور فوری مالیاتی و ضابطہ جاتی اصلاحات کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ اس مشاورتی اجلاس میں صحتِ عامہ کے ماہرین، ماہرینِ معاشیات، محققین، مالیاتی پالیسی کے ماہرین اور تمباکو کنٹرول کے سرگرم کارکنوں نے شرکت کی، جن کا تعلق سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (SPDC)، ہارٹ فاءل، ایسوسی ایشن فار بیٹر پاکستان (ABP)، سمر (SAMAR)، بلیو وینز، ایس ڈی پی آءی (SDPI) اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) سمیت مختلف اداروں سے تھا۔
شرکاء نے نءی تمباکو اور نکوٹین مصنوعات (NTNPs) بشمول ہیٹڈ ٹوبیکو پروڈکٹس (HTPs)، الیکٹرانک نکوٹین ڈلیوری سسٹمز (ENDS)، اورل نکوٹین پاؤچز اور دیگر نکوٹین پر مشتمل مصنوعات کے تیزی سے بڑھتے ہوءے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جو جارحانہ مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوانوں کو ہدف بنا رہی ہیں۔ایس پی ڈی سی کے آصف اقبال نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ اب بھی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً سستے ہیں، جبکہ 2023 میں کیے گءے ٹیکس اضافے کے عوامی صحت پر مثبت اثرات مہنگاءی اور آمدنی میں اضافے کے باعث بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آءندہ وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کے ذریعے سگریٹ کی قیمتوں میں 17.4 فیصد اضافہ حکومت کے لیے اضافی 51 ارب روپے کی آمدنی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ تمباکو کے استعمال میں بھی نمایاں کمی لا سکتا ہے۔
ہارٹ فاءل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر صبا امجد نے بتایا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث صحت کے اخراجات اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں سالانہ تقریباً 615 ارب روپے کا معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اجلاس میں سگریٹ پر نافذ دو سطحی فیڈرل ایکساءز ٹیکس نظام کا بھی جاءزہ لیا گیا، جس کے باعث کم قیمت برانڈز مارکیٹ میں دستیاب رہتے ہیں اور نوجوانوں و کم آمدنی والے طبقات میں تمباکو نوشی کے رجحان کو برقرار رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس دو سطحی نظام کے خاتمے سمیت ٹیکس اصلاحات سے 2 لاکھ 71 ہزار سے زاءد بالغ افراد تمباکو نوشی ترک کر سکتے ہیں، تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار نوجوان تمباکو نوشی شروع کرنے سے بچ سکتے ہیں اور طویل مدت میں لاکھوں قیمتی جانیں محفوظ بناءی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں بغیر دھوءیں والے تمباکو (Smokeless Tobacco) پر ٹیکس عاءد کرنے سے حاصل ہونے والے ممکنہ محصولات اور عوامی صحت کے فواءد پر بھی تفصیلی گفتگو ہوءی۔
ہارٹ فاءل کے ریسرچ لیڈ عمار راشد نے کہا کہ اس شعبے کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے سے حکومت کو اضافی اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ آءندہ پانچ برسوں میں اس کے استعمال میں 40 فیصد تک کمی لاءی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس شعبے کو منظم بنانے کے لیے لاءسنسنگ، معیاری پیکجنگ اور مؤثر نگرانی کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوءے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہا، "پاکستان مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ اور تمام نکوٹین مصنوعات کی مؤثر ریگولیشن صحتِ عامہ کے تحفظ، علاج معالجے کے اخراجات میں کمی اور نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے بچانے کے لیے انتہاءی مؤثر اقدامات ہیں۔”اجلاس کے اختتامی سیشن میں تمباکو کنٹرول کے معروف کارکن قمر نسیم (بلیو وینز) نے نشاندہی کی کہ تمباکو اور نکوٹین کی صنعت نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے پرکشش برانڈنگ، سوشل میڈیا انفلوءنسرز، تفریحی سرگرمیوں کی اسپانسرشپ اور جدید طرز کے مصنوعات ڈیزاءن استعمال کر رہی ہے۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو تمام تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کے لیے ایک جامع ضابطہ جاتی فریم ورک متعارف کرانا چاہیے، غیر قانونی تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف کاررواءیوں کو مؤثر بنانا چاہیے، صحتِ عامہ سے متعلق پالیسی سازی کو صنعتی مداخلت سے محفوظ رکھنا چاہیے اور نوجوانوں میں نکوٹین کی لت کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دینی چاہیے۔اجلاس کے اختتام پر اتحاد نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ساءنسی شواہد پر مبنی پالیسیاں اختیار کرے جو عوامی صحت کے فروغ، آنے والی نسلوں کے تحفظ اور ملکی مالیاتی استحکام کو بیک وقت یقینی بنا سکیں۔