جنوبی اضلاع کی سڑکیں، پانچ سالہ تاخیر ، عدالت برہم
نیشنل ہائی وے کی کارکردگی پر پشاور ہائیکورٹ کا سخت نوٹس
پشاور (تحقیقی رپورٹ) : پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے جنوبی اضلاع میں نیشنل ہائی وے کی خستہ حالی، طویل تاخیر اور سکیورٹی کی ناقص صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو 90 روز میں تعمیر مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
عدالت میں دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنوبی اضلاع کی مرکزی شاہراہیں برسوں سے زیرِ تعمیر ہیں، لیکن کام کبھی مکمل نہیں ہوتا، صرف “جاری” رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل اب ناقابل قبول ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عام آدمی کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ اگر موٹروے پر مکمل نگرانی ممکن ہے تو یارک سے ڈی آئی خان اور کرک سے یارک تک سکیورٹی کی عدم موجودگی کیوں ہے؟
جسٹس فہیم ولی نے سماعت کے دوران سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ سے اس منصوبے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی، اب مزید وقت نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے سخت رویے کے بعد این ایچ اے حکام نے موقف اختیار کیا کہ فنڈز کی کمی منصوبے میں تاخیر کی بڑی وجہ ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے سات ارب روپے درکار ہیں، لیکن اب تک صرف ڈیڑھ ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔
اس پر عدالت نے حکم دیا کہ دستیاب فنڈز کا استعمال صرف سڑک کی سیفٹی پر کیا جائے اور مقررہ 90 دن سے زائد مہلت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ترقیاتی کام کی مکمل تفصیلات اور ایک جامع سکیورٹی پلان پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جنوبی اضلاع کی سڑکیں اس لیے نظر انداز کی جا رہی ہیں کیونکہ یہ عام شہریوں کے زیر استعمال ہیں، لیکن اب یہ طرزِ عمل نہیں چلے گا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عام شہری اور وی آئی پی کی جان کی قدر برابر ہے۔
پانچ سال سے جاری اس منصوبے کی تاخیر نے ایک بار پھر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عدالت کے حالیہ احکامات ایک واضح پیغام ہیں کہ عوامی سہولت کے منصوبے اب مزید سرکاری سستی کا شکار نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالتی دباؤ کے تحت این ایچ اے اپنے وعدے پر قائم رہتی ہے یا یہ منصوبہ بھی دیگر منصوبوں کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا۔