پاکستان میں تعلیم تجربہ گاہ بن چکی ہے، قیمت صرف طالبعلم ادا کر رہے ہیں

پالیسیوں کا کھیل یا تعلیم کا مستقبل؟کبھی بورڈ، کبھی اسسمنٹ، کبھی کمبائن، کبھی علیحدہ، آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات کی بحالی نے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا

0

شکیلہ جلیل

shakila.jalil01@gmail.com

پاکستان کا تعلیمی نظام ایک بار پھر غیر یقینی کی لپیٹ میں ہے۔ صوبہ پنجاب میں آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات کی بحالی کا فیصلہ حالیہ اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کی۔ اگرچہ حکومت اسے تعلیمی بہتری کی جانب قدم قرار دے رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے بار بار تبدیل ہونے والے فیصلے نہ صرف طالبعلموں بلکہ والدین، اساتذہ اور خود تعلیمی اداروں کے لیے بھی ذہنی اذیت اور انتظامی الجھنوں کا سبب بنتے جا رہے ہیں۔

پنجاب حکومت نے پانچ سال قبل آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات ختم کیے تھے، جسے اُس وقت ایک اصلاحاتی قدم سمجھا گیا۔ لیکن اب ایک بار پھر انہی امتحانات کو بحال کرنے کا اعلان سامنے آ گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کوئی ٹھوس تحقیق، پالیسی ریویو یا مشاورت کے شواہد سامنے نہیں آئے جن کی بنیاد پر یہ یوٹرن لیا گیا ہو۔

وزیر تعلیم کے مطابق، پانچویں، چھٹی اور ساتویں جماعت کے امتحانات انٹرنل اسسمنٹ کی بنیاد پر لیے جائیں گے جبکہ آٹھویں جماعت کے طلبہ کو دوبارہ بورڈ امتحانات سے گزرنا ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایک ماہ کے اندر انٹرنل اسسمنٹ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے۔ تاہم، ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی پالیسی مستقل بنیادوں پر نہ ہو اور اس پر وسیع مشاورت نہ کی جائے، تب تک اس طرح کے اعلانات تعلیمی نظام کو مزید غیر مستحکم کرتے رہیں گے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان میں تعلیمی پالیسی بغیر کسی طویل المدتی وژن کے تبدیل کی گئی ہو۔ کبھی نویں اور دسویں کے امتحانات کو کمبائن کر کے ایک ساتھ لیا جاتا ہے تو کبھی علیحدہ علیحدہ۔ کبھی اسکولوں میں پانچویں کے بورڈ امتحانات کا شور ہوتا ہے اور پھر اچانک اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ ان بدلتی پالیسیوں کا براہِ راست اثر طلبہ کے مستقبل پر پڑتا ہے جو پہلے ہی سخت مقابلے، ناقص تعلیمی سہولیات اور مہنگائی کے دباؤ میں مبتلا ہیں۔

والدین بھی اس نظام سے شدید مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہر سال اپنے بچوں کے لیے نیا تعلیمی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس کی کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ کوئی واضح نظام، مستقل نصاب، یا متفقہ امتحانی سسٹم موجود نہیں۔ جو حکومت آتی ہے، نئی پالیسی لے آتی ہے—اور پھر چلی جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی پالیسی کوئی لیبارٹری تجربہ ہے جسے ہر حکومت اپنے انداز میں آزماتی ہے؟ کیا ہم نے تعلیم کو ایک سنجیدہ قومی ایجنڈا بنانے کے بجائے سیاسی اسکورنگ کا ذریعہ بنا دیا ہے؟ اور کیا اس کا خمیازہ ہمارے بچوں کو اپنی علمی ترقی کی قربانی دے کر بھگتنا ہوگا؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک طویل المدتی، مشاورتی اور سائنسی بنیادوں پر استوار تعلیمی پالیسی بنائی جائے جو مستقل رہے، حکومتوں کے آنے جانے سے نہ بدلے، اور جس پر طلبہ، والدین، اساتذہ اور ماہرین سب کو اعتماد ہو۔ ورنہ تعلیم کا یہ تجرباتی سفر ایک ایسے اندھے کنویں کی صورت اختیار کر جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔

Ask ChatGPT
Leave A Reply

Your email address will not be published.