دبئی نے سیاحت کے میدان میں ایک اور سنگ میل عبور کر لیا
عالمی مہنگائی اور غیر یقینی حالات کے باوجود2025 کی پہلی ششماہی میں 98.8 لاکھ بین الاقوامی سیاحوں کی آمد
دبئی نے سیاحت کے شعبے میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 2025 کی پہلی ششماہی (جنوری تا جون) میں 98.8 لاکھ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کیا، جو کہ 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔ دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم (ڈی ای ٹی) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار نہ صرف عالمی سطح پر دبئی کی مقبولیت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ شہر کی اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی کا بھی ثبوت ہیں۔
اس موقع پر دبئی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ یہ ترقی نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے اس وژن کی عکاسی ہے جس کے تحت دبئی کو دنیا کا اہم ترین سیاحتی اور کاروباری مرکز بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی نے اپنی سلامتی، جدید انفراسٹرکچر، اور منفرد تجربات کی فراہمی کے ذریعے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔
شیخ حمدان نے دبئی اکنامک ایجنڈا (D33) کو مستقبل کی ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت اب دبئی کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
ڈی ای ٹی کی رپورٹ کے مطابق، سیاحوں کی سب سے بڑی تعداد مغربی یورپ (22.1 لاکھ)، خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ (15.1 لاکھ)، جنوبی ایشیا (15 فیصد)، اور سی آئی ایس و مشرقی یورپ (15 فیصد) سے آئی۔ اس کے علاوہ امریکہ، افریقہ اور آسٹریلیشیا سے بھی خاصی تعداد میں سیاح دبئی کا رخ کرتے رہے۔
رپورٹ میں شہر میں ہوٹلنگ کے شعبے میں جاری ترقی کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں جمیرا مرسا العرب، شوال میزن، بلٹمور ولاز اور وِدا دبئی مال جیسے نئے ہوٹل شامل ہیں۔ ڈی ای ٹی کے ڈائریکٹر جنرل ہلال سعید المری نے کہا کہ یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دبئی نے عالمی مہنگائی، بدلتے سفری رحجانات اور غیر یقینی معاشی حالات کے باوجود خود کو ایک پائیدار اور پرکشش منزل کے طور پر قائم رکھا ہے۔
علاوہ ازیں، دبئی کو 2025 کی پہلی ششماہی میں عالمی سطح پر کئی اہم سیاحتی اعزازات بھی حاصل ہوئے، جن سے اس کی عالمی درجہ بندی میں مزید بہتری آئی ہے اور وہ دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل ہو گیا ہے۔