ڈی جی پاسپورٹ آفس میں 25 ملین روپے کی بدعنوانی کا انکشاف

سیکورٹی گارڈز کی تنخواہوں میں کٹوتی، باقی رقوم افسران اور نجی فرم کی جیب میں؛ ایف آئی اے اور نیب سے فوری کارروائی کا مطالبہ

0

رپورٹ : شکیلہ جلیل

اسلام آباد : ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن مصطفیٰ جمال قاضی (ڈیپو ٹیشن پر تعینات) کے دور میں ایک بڑے مالی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں سرکاری سیکورٹی خدمات کے معاہدے میں مبینہ طور پر بھاری بدعنوانی کی گئی۔ تحقیقات کے مطابق موجودہ انتظامیہ نے ایک نجی سیکورٹی فرم کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جس کے تحت حکومت نے پاسپورٹ دفاتر میں تعینات ہر سیکورٹی گارڈ کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ مختص کیے، لیکن گارڈز کو اس کا نصف یا اس سے بھی کم معاوضہ دیا گیا۔ بڑے شہروں میں گارڈز کو صرف 23 سے 25 ہزار روپے ماہانہ ملے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ رقم مزید کم ہو کر 10 سے 15 ہزار روپے رہ گئی۔

باقی بچ جانے والی 20 سے 35 ہزار روپے فی گارڈ کی رقم مبینہ طور پر افسران اور نجی فرم کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 25 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ یہ معاملہ نہ صرف عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ احتسابی نظام کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز قومی ترقی یا سکیورٹی کے اہم منصوبوں پر خرچ ہو سکتے تھے۔

متعلقہ حلقوں نے ایف آئی اے، نیب اور وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث تمام افراد، بشمول اعلیٰ افسران، کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ عوامی وسائل کے غلط استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے معاہدوں میں مکمل شفافیت، دیانت داری اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے، خاص طور پر جب بات عوامی فنڈز اور بنیادی خدمات کی ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.