سوات کو ایڈونچر کیپیٹل بنانے کی تیاری
خیبرپختونخوا حکومت کا بویون ویلی میں اسکی ریزورٹ قائم کرنے کا منصوبہ، ملم جبہ کا بوجھ کم ہوگا، سیاحت اور ایڈونچر اسپورٹس کو عالمی سطح پر فروغ ملے گا۔
سوات: برف پوش پہاڑوں اور دیودار کے جنگلات سے گھرا ہوا سوات، جسے اکثر پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، اب ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے کالام کی بویون ویلی میں عالمی معیار کا اسکی ریزورٹ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو خطے کی سیاحت اور ایڈونچر اسپورٹس کے نقشے کو بدل سکتا ہے۔
تقریباً 2,900 ایکڑ پر مشتمل اس منصوبے میں 1,400 ایکڑ رقبہ اسکی ڈھلوانوں کے لیے جبکہ 1,500 ایکڑ ہوٹل، ریسٹورنٹس اور دیگر تفریحی سہولیات کے لیے مختص کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد ماحول دوست ہوگا۔ سیکرٹری سیاحت، ثقافت و آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد نے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا:
"کسی درخت کو نہیں کاٹا جائے گا، ہمارا ترقی کے ساتھ ساتھ فطرت کے تحفظ پر بھی مکمل عزم ہے۔”
ماہرین کے مطابق یہ نیا ریزورٹ ملم جبہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرے گا، جہاں برف باری کے موسم میں ہزاروں سیاحوں کا رش ہوتا ہے۔ ایڈونچر کلب آف پاکستان کے صدر ابو ظفر نے کہا:
"ملم جبہ میں سیاح اکثر اسکی پاس لینے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ کالام میں نیا ریزورٹ وقت کی اہم ضرورت ہے۔”
اس منصوبے سے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، خاص طور پر ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، اسکی ٹریننگ اور سیاحتی خدمات کے شعبے میں۔ ڈاکٹر صمد کے مطابق:
"یہ ریزورٹ نوجوانوں کو پروفیشنل ونٹر ایتھلیٹ بننے کی ترغیب دے گا۔ ہو سکتا ہے کل کا عالمی چیمپئن اسکیئر کالام سے نکلے۔”
آسٹریلیا سے ویڈیو لنک پر شرکت کرنے والے عالمی شہرت یافتہ اسکی ماہر الیگزینڈر اسٹینلیچنر نے بھی اس منصوبے کی تائید کی اور کہا کہ:
"بین الاقوامی اسکی کمیونٹی ہمیشہ نئے اور دلکش مقامات کی تلاش میں رہتی ہے۔ بویون ویلی کے قدرتی مناظر اسے دنیا کا بہترین اسکی پوائنٹ بنا سکتے ہیں۔”
سوات پہلے ہی اسکیئنگ، آئس ہاکی، پیراگلائیڈنگ، ریور رافٹنگ، ٹراؤٹ فشنگ اور سیاحوں کے لیے سوات موٹروے جیسی سہولتوں کے باعث ایڈونچر کے متنوع مواقع فراہم کرتا ہے۔ بویون ویلی ریزورٹ کے اضافے کے ساتھ، حکام پرامید ہیں کہ یہ خطہ پاکستان کا سب سے بڑا ایڈونچر ہب بن سکتا ہے۔
صوبائی کابینہ سے منظوری کا انتظار ہے مگر سوات میں جوش و خروش بڑھ رہا ہے۔ ڈاکٹر صمد کے الفاظ میں:
"ہم صرف ایک ریزورٹ نہیں بنا رہے بلکہ مستقبل بنا رہے ہیں۔ یہ ایک نئے باب کی شروعات ہے جو فطرت کا احترام، نوجوانوں کی صلاحیتوں کی پرورش اور پاکستان کو دنیا سے جوڑنے کا ذریعہ ہوگا۔”