آسٹریلیا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان، جناب ٹموتھی کین نے آج اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزارتِ انسانی حقوق کے سیکرٹری، جناب عبد الخالق شیخ بھی موجود تھے۔
ملاقات میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ دونوں فریقین نے شمولیت اور حقوق پر مبنی حکمرانی کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
ہائی کمشنر نے انسانی حقوق سے متعلق قانون سازی، پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی تقویت کے حوالے سے پاکستان کی حالیہ پیشرفت کو سراہا۔ انہوں نے کمزور اور پسماندہ طبقات کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ آسٹریلوی حکومت انسانی حقوق کے فروغ میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر نے ہائی کمشنر کا خیر مقدم کیا اور تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کے فروغ کے حوالے سے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے قومی لائحہ عمل برائے انسانی حقوق کے تحت جاری اقدامات، انصاف تک رسائی بہتر بنانے، اداروں کی صلاحیت میں اضافے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا۔
وزیر نے بتایا کہ معاہداتی رپورٹنگ کے قومی نظام کو موثر بنایا گیا ہے اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کو حالیہ رپورٹس جمع کرانے اور آئندہ جائزوں کی تیاری کے سلسلے میں پیشرفت جاری ہے۔ انہوں نے بچوں کے حقوق، معذور افراد کے حقوق، شہری و سیاسی حقوق اور اذیت کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پاکستان کی تیاریوں اور ذمہ داریوں کے عزم کو دہرایا۔

وزیر نے یہ بھی بتایا کہ قومی انسانی حقوق کے ادارے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، قومی کمیشن برائے حقوقِ نسواں اور قومی کمیشن برائے حقوقِ طفل، مؤثر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ملاقات میں حقوق کے تحفظ کے لیے حالیہ آئینی اور قانونی اصلاحات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔
بچوں کے حقوق کا تحفظ گفتگو کا اہم محور رہا۔ وزیر نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں اسلام آباد دارالحکومت کے لیے کم عمری میں نکاح کی روک تھام کا قانون، ۲۰۲۵ء اور گمشدہ بچوں کی تلاش کے لیے نظامِ انتباہِ زینب برائے ردعمل و بازیابی شامل ہیں۔

وزیر نے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے جاری آگاہی مہمات، ڈیجیٹل خواندگی کے پروگراموں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے آن لائن مواصلاتی ذرائع کے ذریعے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کیے جانے والے بین الاقوامی اقدامات کا خیرمقدم کیا اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعلقہ حفاظتی پالیسیاں قابلِ ستائش قرار دیں۔
آخر میں، دونوں فریقوں نے انسانی حقوق کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرائی دینے اور باہمی کوششوں کے ذریعے وقار، مساوات اور شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔