بے نظیر بھٹو شہید آمریت کے اندھیروں میں جمہوریت کی شمع

0

شکیلہ جلیل

shakila.jalil01@gmail.com

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو محض افراد نہیں بلکہ نظریات، جدوجہد اور قربانی کی علامت بن جاتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں، بلکہ ایک ایسی رہنما بھی تھیں جنہوں نے آمریت، جبر اور قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود جمہوریت کا پرچم سر بلند رکھا۔ آج ان کی شہادت کو 18 برس گزر چکے ہیں، مگر ان کا سیاسی کردار، سوچ اور جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی، سیاست کی وارث

بے نظیر بھٹو کی سیاست میں آمد کوئی اتفاق نہیں تھی۔ وہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں، جنہوں نے عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری و پھانسی نے بے نظیر بھٹو کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ محض 24 برس کی عمر میں انہوں نے ایک ایسی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا جو آمریت کے خلاف تاریخ ساز ثابت ہوئی۔

قید و بند اور قیادت کا امتحان

ذوالفقار علی بھٹو کی قید اور بعد ازاں شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی شدید دباؤ کا شکار تھی۔ ایسے میں بے نظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ وہ خود بھی جیلوں میں رہیں، نظر بند ہوئیں، تشدد اور تنہائی کا سامنا کیا، مگر آمریت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بے نظیر بھٹو جمہوریت کی سب سے توانا آواز بن کر ابھریں۔

جلاوطنی سے واپسی اور عوامی سیاست

طویل جلاوطنی کے بعد 1986ء میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ لاہور کے استقبال نے ثابت کر دیا کہ عوام آمریت سے تنگ آ چکے ہیں اور جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے ملک بھر میں جمہوری تحریک کو منظم کیا اور آمریت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم

1988ء کے عام انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔
ان کے ادوارِ حکومت (1988–90، 1993–96) میں:

  • پریس پر پابندیاں نرم ہوئیں

  • ویمن پولیس اسٹیشنز قائم ہوئے

  • لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کی بنیاد رکھی گئی

  • خارجہ پالیسی میں پاکستان کو عالمی سطح پر معتدل جمہوری ملک کے طور پر پیش کیا گیا

یہ تمام اقدامات سرکاری دستاویزات اور عالمی رپورٹس میں درج ہیں۔

مشکلات، سازشیں اور بار بار برطرفیاں

بے نظیر بھٹو کا سیاسی سفر آسان نہ تھا۔ ان کی حکومتیں دو بار برطرف کی گئیں، ان پر الزامات لگائے گئے، مگر وہ ہر بار عوامی عدالت میں سرخرو ہو کر واپس آئیں۔ انہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ، آئین اور عوام کی بالادستی پر یقین رکھا۔

2007ء: وطن واپسی اور سانحۂ کارساز

18 اکتوبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کی طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پاکستان کی تاریخ کے خطرناک ترین سیاسی واقعات میں سے ایک ثابت ہوئی۔
کراچی کے علاقے کارساز میں ان کے استقبالی جلوس پر ہونے والے خودکش حملوں میں 150 سے زائد افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق:

  • یہ حملہ منظم دہشت گردی تھا

  • سیکیورٹی انتظامات ناکافی تھے

  • بے نظیر بھٹو نے اس واقعے کے بعد حکومت کو تحریری طور پر خطرات سے آگاہ کیا

یہ خط آج بھی ملکی سیاست میں ایک اہم دستاویزی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

آخری جدوجہد اور شہادت

2007ء میں طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپسی بے نظیر بھٹو کی آخری سیاسی جدوجہد ثابت ہوئی۔ وہ ایک بار پھر جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمے کے لیے میدان میں اتریں۔ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے کے بعد وہ دہشت گردی کا نشانہ بنیں اور شہید ہو گئیں۔ ان کی شہادت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا اور پاکستان ایک عظیم جمہوری رہنما سے محروم ہو گیا۔

ورثہ اور یادیں

بے نظیر بھٹو شہید آج بھی جمہوریت، عوامی سیاست اور قربانی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قیادت صنف کی محتاج نہیں بلکہ حوصلے، نظریے اور عوامی وابستگی سے جنم لیتی ہے۔ ان کی جدوجہد آج بھی آمریت کے خلاف ایک روشن مثال ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.