آزاد کشمیر حکومت اربوں کے بجٹ کے باوجود آئی ٹی نظام کی بہتری میں ناکام، عوام بنیادی معلومات سے بھی محروم۔۔۔
سرکاری ویب پورٹل پر موجود ڈیٹا ادھورا، پرانا اور غیر فعال پایا جا رہا ہے۔۔۔
رابطہ نمبرز، فہرستیں، ای میل ایڈریسز اور سروسز کی تفصیلات یا تو موجود ہی نہیں یا کئی سال پرانی ہیں۔۔
دنیا ڈیجیٹل گورننس کی طرف تیزی سے بڑھ رہی، تاحال عوام کو ایک فعال، اپ ڈیٹ اور قابلِ اعتماد آن لائن انفارمیشن سسٹم کیوں فراہم نہیں کیا جا سکا؟؟؟
عوامی حلقوں میں حکوت اور بیوروکریسی کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی پر شدید تشویش،کئی سوالا جنم لینے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد(حسیب چوہدری)ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں بھی مبینہ طور پر حکومت آزاد کشمیر کی محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر عدم توجہی،عوام کو آئی ٹی سروسز یا بزنس سہولیات کی فراہمی تو دور حکومتی کارکردگی اور بنیادی معلومات تک رسائی کیلئے ویب پورٹل کو اپ ڈیٹ بھی نہ کیا جا سکا۔ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی عوام کو کسی محکمہ کے ساتھ رابطے کیلئے وہی پرانا طریقہ کار اپنا کر مختلف ایکسچینجز اور ہیلپ لائنز سے ادھر ادھر کے رابطہ نمبرز مانگنے پڑتے ہیں۔
کبھی ایک کو کال اور کبھی دوسرے دفتر کو مگر مکمل معلومات نہی مل سکتی۔مبینہ طور پر حکومت کے ویب پورٹل پر بیشتر محکموں کے رابطہ نمبرز،افسران و ذمہ داران کی تفصیلات اور محکموں کی سروسز بارے معلومات تک موجود نہیں ہے۔وزراء اور مشیروں کی بھرمار ہے ان وزراء کے مکمل محکوں کی پراپر ویب سائیٹ تک موجود نہیں۔۔دنیا ڈیجیٹل گورننس کی طرف تیزی سے بڑھ رہی، تاحال عوام کو ایک فعال، اپ ڈیٹ اور قابلِ اعتماد آن لائن انفارمیشن سسٹم کیوں فراہم نہیں کیا جا سکا؟؟؟عوامی حلقوں میں حکوت اور بیوروکریسی کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
شہریوں اور سول سوسائٹی نے سوال اٹھایا ہے کہ جب دنیا ڈیجیٹل گورننس کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے تو آزاد کشمیر میں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام کو ایک فعال، اپ ڈیٹ اور قابلِ اعتماد آن لائن انفارمیشن سسٹم کیوں فراہم نہیں کیا جا سکا۔ماہرین کے مطابق ایک جدید آئی ٹی پورٹل کے ذریعے عوام کو گھر بیٹھے محکموں سے متعلق معلومات، درخواستوں، شکایات اور خدمات تک رسائی دی جا سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں یہ نظام کاغذی کارروائی اور فائلوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔