(شبانہ ایاز: نمائندہ خصوصی انقرہ)
ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن اور ترکی۔پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم (OTS) کا مکمل رکن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو "بے مثال، کثیر الجہتی اور منفرد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور روحانی بنیادوں پر قائم ہیں۔
شاہین کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک "جینیاتی اور تہذیبی رشتہ” موجود ہے جو صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، زبان اور مذہبی اقدار سے تشکیل پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان خود ترک لفظ "اردو” سے ماخوذ ہے اور اس میں ہزاروں ترک نژاد الفاظ شامل ہیں۔

انہوں نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر پر غزنوی، دہلی سلطنت اور مغل جیسے ترک نژاد حکمرانوں کی حکمرانی رہی، جس کے اثرات آج بھی پاکستانی معاشرے میں نمایاں ہیں۔
روحانی حوالے سے انہوں نے علامہ اقبال اور جلال الدین رومی کے تعلق کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے فکری اور روحانی رشتے کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں کی حمایت کو دونوں اقوام کے درمیان مشترکہ تاریخی وراثت کا حصہ قرار دیا۔
اسٹریٹجک سطح پر انہوں نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ترکیہ کا قدرتی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلق ترکیہ کے "دل کے جغرافیہ” وژن کے عین مطابق ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ، آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رجب طیب ایردوان، الہام علیئیف اور شہباز شریف کے درمیان حالیہ سربراہی ملاقاتوں نے اس تعاون کو مزید تقویت دی ہے۔
یاد رہے کہ OTS نے حال ہی میں "OTS+” فارمیٹ متعارف کروایا ہے، جس کا مقصد غیر رکن ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے، اور ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے مبصر یا شراکتی حیثیت ایک قابل عمل پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
تاہم، ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی او ٹی ایس رکنیت کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔