رپورٹ: شکیلہ جلیل
پاکستان میں ڈیجیٹل بدسلوکی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ 18 ماہ کے دوران 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (DRF) کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
“پاکستان میں کمزور طبقات کو درپیش ڈیجیٹل خطرات” کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں خواتین، ٹرانس خواتین، صحافیوں، وکلاء، مذہبی اقلیتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے آن لائن تشدد کی شدت اور وسعت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ ڈیجیٹل سیکیورٹی ہیلپ لائن کے ڈیٹا پر مبنی ہے، جس نے مئی 2024 سے دسمبر 2025 کے دوران 5,041 کیسز ہینڈل کیے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل بدسلوکی ایک واضح صنفی اور شناختی بنیادوں پر مبنی مسئلہ بن چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور ٹرانس خواتین کو ہیکنگ، تصاویر پر مبنی بدسلوکی (جس میں اے آئی سے بنائے گئے ڈیپ فیکس بھی شامل ہیں)، بلیک میلنگ، سیکسٹورشن اور منظم آن لائن ہراسانی کا بڑھتا ہوا سامنا ہے۔ یہ حملے اکثر متاثرین کو خاموش کرنے، خوفزدہ کرنے اور سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ یہ واقعات الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک بڑے نظامی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کمزور سائبر کرائم ردعمل، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سست کارروائی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی تک محدود رسائی کے باعث کمزور طبقات زیادہ خطرے میں ہیں۔
اہم نکات کے مطابق خواتین اور ٹرانس خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں، جبکہ متعدد متاثرین نے بحران کے وقت منظم ہراسانی اور پلیٹ فارمز کی تاخیر کا سامنا کیا۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ 92 فیصد متاثرین نے ہیلپ لائن سے مدد کے بعد خطرے میں کمی محسوس کی جبکہ 64 فیصد کیسز میں چند منٹوں میں ابتدائی جواب فراہم کیا گیا۔
تاہم رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل تحفظ میں سب سے بڑی رکاوٹ آگاہی کی کمی نہیں بلکہ مہنگائی، محدود ڈیوائسز، انٹرنیٹ بندش اور پلیٹ فارمز کا غیر مؤثر ردعمل ہے۔
رپورٹ میں Malware Bytes، OONI، HTTPS Everywhere اور LastPass جیسے ڈیجیٹل سیکیورٹی ٹولز کا بھی جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ ٹولز اکثر گلوبل ساؤتھ کے صارفین کی ضروریات جیسے کم رفتار انٹرنیٹ، غیر مستحکم کنیکٹیویٹی، زبان کی رکاوٹیں اور مالی مسائل — کو پورا نہیں کرتے۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے پاکستان کے سائبر کرائم اداروں، خصوصاً نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ افراد پر مبنی اور صنفی حساس نظام اپنائیں، واضح ٹائم لائنز مقرر کریں اور متاثرین کو تحفظ فراہم کریں۔
تنظیم نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ہنگامی رپورٹنگ سسٹمز متعارف کرائیں، جن میں فوری ردعمل اور نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات شامل ہوں۔
!ی آر ایف کی بانی نگہت داد نے کہا:
“ڈیپ فیک، ہیکنگ، سیکسٹورشن اور منظم آن لائن بدسلوکی اب خواتین اور کمزور طبقات کے خلاف کنٹرول کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔ ڈیجیٹل تشدد صرف آن لائن نہیں بلکہ حقیقی زندگی، کیریئر اور عوامی شرکت کو متاثر کر رہا ہے۔”
رپورٹ میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل سیکیورٹی ٹولز تیار کریں جو گلوبل ساؤتھ کے حالات کے مطابق ہوں، جیسے آف لائن کام کرنے کی صلاحیت، کم بینڈوڈتھ میں مؤثر استعمال، علاقائی زبانوں کی سپورٹ اور کمزور صارفین کے لیے رعایتی ہنگامی سہولیات۔