پاکستان کی زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات

حیران کن اور اہم انکشافات
شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com
زراعت پاکستان کی معیشت، شناخت اور سماجی بقا میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ شعبہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 19 سے 25 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے اور لیبر فورس کے ایک بڑے حصے کا روزگار اس سے جڑا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں "انسانی مداخلت” (anthropogenic) کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے کاشتکاروں اور پیدا کاروں کے لیے ایک انتہائی "پرخطر ماحول” پیدا کر دیا ہے۔ یہ خطرہ محض قدرتی چکر کا حصہ نہیں بلکہ ہماری پالیسیوں اور وسائل کی بدانتظامی کا نتیجہ بھی ہے۔
پاکستان میں خشک سالی اب محض ایک اتفاقیہ واقعہ نہیں رہی بلکہ اس کی نوعیت "سسٹمک” (Systemic) ہو چکی ہے، جو ملک کے 40 سے 60 فیصد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری روایتی کاشتکاری کے طریقے اس انسانی مداخلت کے نتیجے میں بدلتے ہوئے ماحول کا مقابلہ کر پائیں گے؟ حالیہ سائنسی شواہد کی روشنی میں 5 ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
درجہ حرارت کی سنگینی
عام مشاہدے میں درجہ حرارت میں ایک فیصد کا اضافہ شاید معمولی لگے، لیکن پودوں کی حیاتیات اور "پیداواری صلاحیت” (Crop Yield) کے لیے یہ ایک تباہ کن تبدیلی ہے۔ تحقیق کے مطابق درجہ حرارت اور پیداوار کے درمیان ایک خاص "لچک” (Elasticity of productivity) پائی جاتی ہے۔ ڈیٹا سے یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اوسط درجہ حرارت میں محض 1 فیصد اضافہ فصلوں کی پیداواری صلاحیت میں 6.19 فیصد تک کی بڑی کمی کا باعث بنتا ہے۔
یہ حقیقت بظاہر غیر متوقع لگتی ہے کیونکہ جو موسمی تبدیلی انسانوں کے لیے معمولی ہے، وہ پودوں کے پیچیدہ حیاتیاتی نظام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔
"تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت اور بارش زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔”
آبپاشی کا تضاد: ٹیوب ویل اور زمین کی نمکیات
پاکستان کی تقریباً 70 فیصد کاشت شدہ اراضی بظاہر سیراب کی جاتی ہے، لیکن یہاں ایک بڑا تضاد موجود ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ جتنا زیادہ پانی ہوگا، فصل اتنی ہی اچھی ہوگی، لیکن سائنسی ڈیٹا اس "مغالطے” کو رد کرتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ کئی علاقوں میں ٹیوب ویلوں کے استعمال سے پیداوار پر "شدید منفی اثرات” مرتب ہو رہے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ پانی کا غیر معیاری ہونا ہے۔ پنجاب میں تقریباً 25 فیصد ٹیوب ویلوں کا پانی آبپاشی کے لیے بمشکل موزوں ہے، جبکہ 50 فیصد ٹیوب ویلوں کا پانی مکمل طور پر غیر موزوں ہے۔ یہ نمکین پانی زمین میں "سیم و تھور” (Salinity) پیدا کر رہا ہے، جس سے زرخیز زمین بنجر ہو رہی ہے۔ یوں "زیادہ پانی” کا جنون زمین کی موت کا سبب بن رہا ہے۔
گزشتہ سال کی فصل کا اثر: معاشی غلامی کا چکر
پاکستانی زراعت میں ایک اہم تصور "گزشتہ سال پر انحصار” (Lagged Dependency) کا ہے۔ غریب کسانوں کے لیے باقاعدہ کریڈٹ مارکیٹ یا قرضوں کی سہولیات کی عدم موجودگی ایک بڑا سماجی و اقتصادی مسئلہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موجودہ سال کے بیج، کھاد اور کیمیکلز کا استعمال مکمل طور پر پچھلے سال (t-1) کی پیداوار اور منافع پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر کسی ایک سال موسم کی سختی فصل تباہ کر دے، تو کسان کے پاس اگلے سال کے لیے سرمایہ نہیں بچتا۔ یہ ایک ایسا خطرناک چکر ہے جہاں ایک برا موسمی سال کسان کو کئی سال پیچھے دھکیل دیتا ہے اور وہ مستقل طور پر معاشی بحران کی زد میں آ جاتا ہے۔
عالمی قوت کو درپیش خطرات
پاکستان زرعی مصنوعات کے لحاظ سے عالمی سطح پر ایک پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی درجہ بندی میں ہماری پوزیشن درج ذیل ہے:
- چنے کی پیداوار: دنیا میں دوسرا نمبر
- کپاس اور گنا: دنیا میں چوتھا نمبر
- پیاز: دنیا میں پانچواں نمبر
- گندم: دنیا میں نواں نمبر
سندھ طاس کی نزاکت اور پانی،توانائی،زراعت کا گٹھ جوڑ
پاکستان کی بقا دریائے سندھ اور اس کے طاس سے جڑی ہے، جو اس وقت "پانی،توانائی،زراعت” (Water-Energy-Agriculture Nexus) کے مثلث میں پھنسا ہوا ہے۔ گلیشیئرز کا پگھلنا اور درجہ حرارت میں اضافے سے "عملِ تبخیر” (Evapo-transpiration) کی شرح بڑھ رہی ہے، جس سے پانی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہاں توانائی کا پہلو بھی انتہائی اہم ہے؛ جیسے جیسے زیرِ زمین پانی کی سطح گرتی ہے، کسانوں کو ٹیوب ویل چلانے کے لیے زیادہ بجلی یا ایندھن (توانائی) کی ضرورت پڑتی ہے، جو ان کے اخراجات کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیتا ہے۔ یہ صورتحال محض کسانوں کی روزی روٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے غذائی تحفظ” (Food Security) کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
مستقبل کی فکر
پاکستان نے لائیو اسٹاک (جس کا زرعی پیداوار میں حصہ 11.4 فیصد ہے) اور پولٹری (7.1 فیصد حصہ) جیسے شعبوں میں قابلِ ذکر ترقی کی ہے، لیکن ہماری بنیادی فصلیں اب بھی بارشوں اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں کے سامنے انتہائی حساس ہیں۔
اگر درجہ حرارت میں محض 1 فیصد اضافہ ہماری پیداواری صلاحیت کو 6 فیصد سے زائد کم کر سکتا ہے، تو کیا ہم اپنے انفراسٹرکچر کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے کافی تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں؟ یا ہم صرف اگلے کسی بڑے سیلاب یا قحط کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آکر ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرے؟ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم روایتی طریقوں سے نکل کر سائنسی بنیادوں پر اپنی زراعت کی حکمتِ عملی ترتیب دیں۔