اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ایک ماہ قبل بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
دستاویز کے مطابق پمز نرسنگ ہاسٹل میں 6 جولائی کی رات 3 بجے استقبالیہ میں آگ لگی جس سے استقبالیہ میں رکھے 3 صوفے جل گئے تھے۔
دستاویز کے مطابق واقعے میں ہاسٹل میں مقیم 78طالبات محفوظ رہیں اورکوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
الیکٹریکل، فرانزک رپورٹ نہ ہونے کے باعث آگ کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا تھا جبکہ ہاسٹل میں سی سی ٹی وی کیمرے، فائرالارم اور ایمر جنسی پلان سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
واقعے کے بعد کمیٹی نے ہاسٹل وارڈن اور سکیورٹی عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی تھی جبکہ انکوائری رپورٹ میں بھی نچلے عملےکومعطل کیا گیا تھا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ انہیں پمز اسپتال میں 6 جولائی کو پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق علم نہیں ہے۔
واضح رہے کہ آج صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ائیرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی۔
اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ صرف ایک بچے کو بچایا جاسکا جب کہ 14 جاں بحق ہوگئے۔