پاکستان کا صنفی بیانیہ: ڈیٹا کی بنیاد پر مساوات کی جانب ایک قومی مکالمہ

Global Gender Gap Report 2025 کے تناظر میں خواتین کے کردار کو تسلیم کرنے اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت پر زور

0
ChatGPT said:

اسلام آباد میں حال ہی میں قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں (NCSW) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے قومی مکالمے نے پاکستان میں صنفی مساوات کے حصول کی راہ میں حائل چیلنجز کو اجاگر کیا۔ اس اہم اجلاس میں ماہرین، پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور Global Gender Gap Report 2025 کے مندرجات پر غور کرتے ہوئے متفقہ طور پر ڈیٹا پر مبنی اور شمولیتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

مکالمے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک قومی ٹاسک فورس برائے صنفی ڈیٹا ہم آہنگی قائم کی جائے، جو تمام متعلقہ ڈیٹا رکھنے والے اداروں کو ایک جامع فریم ورک کے تحت لائے۔ NCSW کی قیادت میں ایک بین الاادارہ پروٹوکول کے ذریعے حقیقی وقت میں منقسم ڈیٹا کی ترسیل و اشتراک کی تجویز بھی دی گئی۔ ساتھ ہی، ایک پاکستانی ملکیتی قومی صنفی مساوات انڈیکس کی تشکیل پر بھی زور دیا گیا جو زمینی حقائق کے مطابق ہو اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہو۔

پینل مباحثوں میں مختلف ماہرین نے اظہارِ خیال کیا۔
"Reading Between the Ranks” سیشن میں مشال پاکستان کے سی ای او عامر جہانگیر نے ڈیٹا سسٹمز میں موجود خلاء کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جب تک خواتین کی محنت اور کردار نظر نہیں آئیں گے، پالیسیز مؤثر نہیں ہو سکتیں۔ اسی تناظر میں SDG یونٹ کے علی کمال نے بروقت اور درست اعدادوشمار کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر لبنیٰ شناس عمر نے معیشت میں خواتین کی شراکت کو پاکستان کی ترقی کا بنیادی جزو قرار دیا، جب کہ مہناز اکبر عزیز نے خواتین کی ہر شعبے میں خدمات کو تسلیم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

"Progress in Motion” سیشن میں ڈیجیٹل میدان میں خواتین کی شمولیت پر توجہ دی گئی۔ GSMA کی سائرہ فیصل سید نے کہا کہ ڈیجیٹل انکلوژن خواتین کو بااختیار بنانے کی کنجی ہے۔ نادیہ علی اور فہمیدہ خان نے بھی پالیسی سازی میں ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔

"Invisible Work, Missing Data” سیشن میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی غیر معاوضہ گھریلو محنت اور وقت کے استعمال سے متعلق ڈیٹا کی کمی صنفی مساوات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ڈاکٹر نایاب اور ڈاکٹر آئرہ پطرس نے ایسی محنت کو قومی معیشت میں تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر حسن اوروج نے خواتین اور بچیوں کی صحت کو پالیسی کا بنیادی محور بنانے کی ضرورت کو واضح کیا۔

مکالمے کے اختتام پر NCSW کی چیئرپرسن عمِ لیلیٰ اظہر نے کہا کہ پاکستان کب تک صنفی بیانیے سے باہر رکھا جائے گا؟ وقت آ چکا ہے کہ ہم ایک ایسا نظام بنائیں جہاں خواتین کی کسی بھی محنت کو "not available” کے خانے میں نہ ڈالا جائے۔

مہمان خصوصی عبد الخالق شیخ، سیکرٹری برائے انسانی حقوق، نے حکومت کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کو دہرایا۔ پاکستان کی اقوام متحدہ جنیوا میں مستقل نمائندہ نے عالمی سطح پر صنفی برابری کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔

اب NCSW تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر قومی صنفی مساوات انڈیکس کو ادارہ جاتی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ خواتین کی محنت اور خدمات کو قومی بیانیے کا مرکزی حصہ بنایا جا سکے۔ یہ صرف پاکستان کی عالمی درجہ بندی کو بہتر بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ پالیسی سازی میں ایک مضبوط بنیاد کا تعین بھی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.