ماحول دوست پاکستان کی طرف قدم

اراکینِ اسمبلی کا ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف گرین یونیورسٹی کے قیام پر حکومت کو خراجِ تحسین

0

اسلام آباد،قومی اسمبلی کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے حکومت کے گرین یونیورسٹی کے قیام کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنا اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دینا ہے۔

  اراکینِ اسمبلی نے اس اقدام کو دور اندیشی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ یہ تعلیمی منصوبہ نوجوان نسل کو ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرے گا۔

مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا، "یہ اقدام بروقت اور نہایت اہم ہے۔ یہ یونیورسٹی گلوبل وارمنگ جیسے سنگین مسئلے پر تحقیق میں مددگار ثابت ہوگی۔”

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سید امین الحق نے حکومت کی مجموعی ماحولیاتی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا، "اخراج پر قابو پانے، گرین انرجی کو فروغ دینے اور الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔”

رکن اسمبلی ملک شاکر بشیر نے زور دیا کہ صرف حکومت کے بس کی بات نہیں، "معاشرے کے ہر طبقے کو آگے آ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہم اس بحران کا مل کر مقابلہ کر سکیں۔”

اراکینِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ گرین یونیورسٹی کا ایک اہم مقصد نوجوانوں کو ماحولیاتی عمل میں شریک کرنا ہے، جو آنے والے وقت میں درپیش ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک تیار شدہ نسل فراہم کرے گا۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی نے ماحولیاتی تبدیلی کے زرعی شعبے پر اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، "خوراک کی سیکیورٹی خطرے میں ہے، کسان متاثر ہو رہے ہیں، ہمیں عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا ہوگا۔”

اراکینِ اسمبلی کی جانب سے اس پراجیکٹ کی بھرپور حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے سیاسی اتفاقِ رائے فروغ پا رہا ہے، اور گرین یونیورسٹی کا قیام ملک کی پائیدار ترقی کی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.