موسمیاتی بحران یا حادثہ؟ دریائے سوات سانحہ پر شیری رحمان کا دوٹوک مؤقف

یہ صرف قدرتی آفات نہیں، موسمیاتی تبدیلی کی شدت ہے، ارلی وارننگ سسٹم کو سنجیدہ لینا ہوگا

0

اسلام آباد، : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے دریائے سوات میں سیلابی ریلے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دعا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ یہ واقعات محض حادثات نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سوات میں پیش آنے والا سانحہ مون سون کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ ہے، جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے منسلک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئر پھٹنے (گلوف) اور ملک بھر میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتے درجہ حرارت اس بحران کی علامت ہیں۔

شیری رحمان نے بتایا کہ سات مقامات پر 70 سے زائد افراد پھنسے تھے جن میں سے 52 کو بچایا گیا جبکہ 6 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ انہوں نے قومی و ضلعی اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ محض دفعہ 144 نافذ کرنا ناکافی ہے، اور خیبر پختونخوا میں ارلی وارننگ سسٹمز کو نظرانداز کرنا قابلِ تشویش ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ، غیرمعمولی بارشیں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافے جیسے عوامل ہمیں نئے سائنسی اور پالیسی فریم ورک اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

سینیٹر نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ ان آفات کو صرف خبری حادثات کے طور پر نہ دکھائے بلکہ ان کے پیچھے موجود موسمیاتی حقائق اور خطرات کو اجاگر کرے تاکہ عوام میں آگاہی بڑھے۔

آخر میں، شیری رحمان نے قومی قیادت اور وزارت موسمیاتی تبدیلی پر زور دیا کہ ہر سطح پر فوری اور مربوط عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.