جنگلات کٹ رہے ہیں، ٹاورز بڑھ رہے ہیں، مکھیاں راستہ بھول رہی ہیں
قدرت کا خاموش معاہدہ ٹوٹ رہا ہے: شہد، جنگلات اور ڈیجیٹل ترقی کا تصادم
شہد کی ترقی، مکھیوں کی تباہی: پاکستان میں بائیوڈائیورسٹی خطرے میں
اگر ہم نے پولینیٹرز کو نہ بچایا، تو نہ شہد بچے گا، نہ خوراک، نہ زندگی،صرف ترقی کے دعوے رہ جائیں گے
تحریر : شکیلہ جلیل
shakila.jalil01@gmail.com
شہد قدرت کی صرف ایک نعمت نہیں بلکہ یہ انسان اور قدرت کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہے شہد کی مکھیاں اس معاہدے کو صدیوں سے خاموشی سے نبھاتی چلی آرہی ہیں ۔آج شہد کی صنعت سے لاکھوں افراد منسلک ہیں اور ترقی کر رہے ہیں ۔مگر اس ترقی کی قیمت مقامی شہد کی مکھیاں اد اکررہی ہیں ۔چھتے بھر رہے ہیں ،مگر جنگلات خالی ہو رہے ہیں ۔برآمدات بڑھ رہی ہیں مگر بائیوڈائیورسٹی سکڑ رہی ہے ۔
پاکستان کے جنگلات ،کھیت اور پہاڑ صرف درختوں اور پھولوں کا گھر نہیں بلکہ یہ شہد کی مقامی مکھیوں کی آخری پناگاہ ہیں ۔یہ مکھیاں ہماری فصلوں کو زندہ رکھتی ہیں,مگر آج وہ خؤد خاموشی سے ختم ہو رہی ہیں،جب ایک مکھی مر جاتی ہے توسمجھیں کہ قدرت کا پورا توازن اس کے ساتھ بگڑ جاتا ہے ۔شہد کی یہ مقامی مکھیاں بائیوڈائیورسٹی کی محافظ ہیں اور ان کی بقا دراصل ہماری دنیا کی بقا ہے ۔
پاکستان کے سرکاری اداروں کے مطابق پاکستان میں شہد کی پیداوار بڑھ رہی ہے ،برآمدات ہورہی ہیں ،لیکن غیر محسوس طریقے سے شہد کی مقامی مکھیاں ختم ہو رہی ہیں اور یہ صرف شہد کی مکھیوں کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ فوڈ سیکیورٹی ،زراعت ،ماحولیاتی توازن اور بائیوڈائیورسٹی کا بحران ہے ۔
پاکستان میں شہد کی پیداوار سے لاکھوں افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ وابستہ ہیں۔ بی کیپرز، کسان، پیکجنگ یونٹس اور برآمدی چین,یہ سب اس صنعت کا حصہ ہیں لیکن شہد کی اصل قدر پیداوار سے زیادہ پولینیشن (Pollination) میں ہے۔
پاکستان بننے کےبعد سے یہاں پر مقامی شہد کی مکھیوں کی تقریبا چھ اقسام پائی جاتی تھیں ،لیکن اب پاکستان میں صرف تین مقامی شہد کی مکھیاں پائی جا تی ہیں ،جن میں سے ایک ایپس سیریانا Apis cerana جسے ایشیائی شہد کی مکھی بھی کہا جا تا ہے ، یہ مکھی پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر، شمالی بلوچستان میں پائی جاتی ہے ،دیہی باغات، سرسوں، پھلدار درخت اس مکھی کی پسندیدہ جگہیں ہیں ۔ یہ مقامی موسم سے ہم آہنگ ،کم وسائل میں زندہ رہنے والی اور بیماریوں کے مقابلے میں بہتر مزاحمت رکھنے والی مکھی ہے،جو اب تیزی سے کم ہورہی ہے ،تجارتی بی کیپنگ سے تقریباً غائب ہے ،صرف دور دراز دیہات اور پہاڑی علاقوں میں کچھ تعداد پائی جا تی ہے لیکن ماہرین کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ مکھی اب ناپید ہو تی جا رہی ہے ۔
شہد کی دوسری مقامی شہد کی مکھی ایپس ڈورسٹا Apis dorsataجنگلی یا پہاڑی شہد کی مکھی کہلاتی ہے ،یہ بڑے چھتے بناتی ہے اور جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں پائی جا تی ہے اسے قدرتی بائیو ڈائیورسٹی کی اہم محافظ قرار دیا جا تا ہے مگرجنگلات کی کٹائی سے شدید متاثر اب یہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ،
ایپس فلوریہ Apis florea چھوٹی یا بونسی شہد کی مکھی کہلاتی ہے ،اس کی خصوصیت یہ ہے کہ سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان کے گرم اور نیم صحرائی علاقوں میں زندگی گزارتی ہے ،یہ چھوٹے چھتے بناتی ہے اور جنگلی پودوں،جھاڑیوں کےلیے بہترین پولینیٹر ہے ۔شہری پھیلاؤ اورزرعی اسپرے سے خطرے میں آچکی ہے اور اس کی تعداد بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔

ایپس میلیفیرا Apis mellifera یہ مقامی مکھی نہیں ہے بلکہ یہ یورپی شہد کی مکھی کہلاتی ہے جسے پاکستان میں 1970–1980 کی دہائی میں متعارف کرایا گیا ۔جس کا بنیادی مقصد تجارتی شہد کی پیداوار بڑھانا تھا ۔
یہ مکھی پاکستان کی مقامی نہیں، مگر آج سب سے زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔تجارتی بی کیپنگ میں 70–80٪ حصہ اسی غیر مقامی مکھی کا ہے جو اب ہمارے اس ماحول میں رچ بس چکی ہے،مگر مقامی ایکوسسٹم کے لیے یہ مکھی خطرے کا باعث ہے۔
ناران سے تعلق رکھنے والے شہد کی صنعت سے منسلک بی کیپرنوریزعلی خان کا کہنا ہے کہ شہد کی مکھیاں کبھی ہماری زندگی کا حصہ تھیں ،ہمارے گھروں میں ،چھتوں پر ،برآمدے میں ،درختوں پر شہد کی مکھیوں کلے چھتے تھے ۔یہ ہمارا کاروبار بھی تھیں اور ہماری زندگی گزارنے کا زریعہ بھی ۔یہ ہمارا ذریعہ معاش تھیں ۔مگر پھر پچھلے دس سے پندرہ سالوں کے درمیان شہد کی مکھیوں غائب ہونا شروع ہو گئیں ،ایسے لگتا تھا جیسے کوئی ان مکھیوں کو پریشان کر رہا ہے بھگا رہا ہے ۔کبھی یہ راستہ بھٹک جا تیں ۔اور یوں آہستہ آہستہ مقامی مکھیوں کی تعداد کم ہو نا شروع ہو گئیں ۔ہمیں اندازہ نہیں کہ آخر ایسی کیا وجوہات ہو ئیں کہ شہد کی مکھیوں کی یہ کیفیت ہوئی ،لیکن جیسے جیسے لوگوں کی آمدورفت بڑھی ،موسم میں تبدیلی آئی ،اور بڑے بڑے ٹاور لگنا شرو ہوئے،ترقیاتی کام شروع ہو ئے تو شہد کی مکھیوں کے رویے میں تبدیلی آئی اور وہ ہم سے دور ہو نے لگیں ،پھر پچھلے کچھ سالوں سے ہر سال سیزن میں بہت سے لوگ ڈھیوں ڈبے اٹھائے ڈھیروں شہد کی مکھیاں لئے ہمارے علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔ان مکھیوں سے بھی مقامی مکھیآں گھبرا جا تی ہیں ۔اور آہستہ آہستہ کم ہو گئیں ۔یہ غیر مقامی مکھیاں بہت ظالم ہیں ۔کہ پودوں کے ساتھ ساتھ ان کی پھنکھڑیاں بھی کھا جا تی ہیں ۔جس سے ہماری مٹر اور ٹماٹر کی فصلیں تباہ ہو جا تی ہیں اسی لئے اب یہاں پر کسانوں سے تنگ آکر ٹماٹر اور مٹر کی بجائے آلو کاشت کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔نوریز خان کا کہنا ہے کہ شہد کی صنعت سے منسلک مقامی کسان پریشان ہیں کیونکہ ان کا ذرعہ معاش صرف مقامی شہد کی مکھی ہے وہ فارمی ملکھی پر انحصار نہیں کرتے کیونکہ فارمی مکھی کو موسم کی مناسبت سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لیکر جا نا پڑتا ہے اور آف سیزن میں اسے فیڈ کرانا پڑتا ہے ،چینی کا شیرا بنا کرانکی خؤراک کا بندوبست کرنا ہو تا ہے جبکہ جو مقامی مکھی ہے اس کے چھتے میں کچھ شہد چھوڑ دیا جا تا ہے اور وہ مکھی آف سیزن میں اسی شہد پر گزارا کرتی ہے اور چھتے کے اندر رہتی ہے،مگر اب وقت کے ساتھ ہم مقامی مکھیوں کو کھو رہے ہیں ۔
غلام سرور ڈائریکٹر ،ہنی بی ریسرچ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد
ڈائریکٹرہنی بی ریسرچ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد کے ڈائریکٹرغلام سرور کا کہنا ہے کہ ہنی بی ریسرچ سینٹر پاکستان میں شہد کی پیداوار میں آضفے کےلئے اہم کردار اد اکر رہا ہے ،لیکن اگر ہم صرف مقامی شہد کی مکھیوں پر انحصار کریں وت پھر لوگوں کی ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں اسلئے ہمیں غیر ملکی شہد کی مکھی کی افزائش کرنی پڑتی ہے ،پچھلے چالیس سال سے یہ غیر ملکی شہد کی مکھی ہمارے ملک میں ہے اسلئے اب یہ ہمارے ماحول کا حصہ بن گئی ہے اور شہد کی پیداوار کا زیادہ انحصار بھی اسی مکھی پر ہے ،ہماے ملک میں مقامی مکھیوں کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے اور اگر ہمیں مقامی مکھوں کو ناپیہد ہونے سے بچانا ہے تو پھر مقامی شہد کی مکھیوں کو بچانے کےلئے ضروری ہے کہ جنگلات کو محفوظ کیا جا ئے ،پھلداردرخت لگائے جا ئیں ،ایسے پودے لگائے گئے جو شہد کی مکھیوں کی افزائش کےلئے ضروری ہوں، اسکے ساتھ ساتھ بی کیپرز کی ٹریننگ بھی کرتے ہیں تاکہ وہ شہد حاصل کرتے ہوئے مکھی کو نقصان نہ پہنچائیں ،لیکن جنگلات میں جب لوگ مقامی مکھی سے شہد حاصل کرتے ہیں تو درختوں کو آگ لگاتے ہیں جس سے شہد کی مکھی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ہمارے ملک میں جس تیزی سے درختوں کی کٹائی کی جا رہی ہے اس سے ہم شہد کی مکھی کو نقصان دے رہے ہیں کیونکہ ایک درخت کٹنے کا مطلب یہی ہے کہ شہد کی مکھیوں کی افزائش کی جگہ ختم کی جائے ۔اس لئے درختوں کی کٹائی روکنی ہو گی تبھی ہم مقامی شہد کی مکھیوں کو ناپید ہو نے سے بچاسکتے ہیں۔ایک طرف شہد کی مکھیاں موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑ رہی ہیں تو دوسری طرف ڈیجیٹل ترقی بھی ان کےلئے مسائل کا باعث ہے ۔کیونکہ ان ٹاور سے نکلنے والی ای ایم ریڈیئشن EM RADIATIONS شہد کی مکھیوں کو متاثر کرنے کا باعث ہیں لیکن پاکستان میں ا بھی اس پر کوئی خآص تحقیق نہیں ہوئی ،لیکن دنیا میں اس پر کام ہو رہا ہے ،اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہد کی مکھیاں اس ترقی سے بھی متاثر ہو رہی ہیں ۔

سید محمد ناصر سابق آئی جی جنگلات
پاکستان میں صرف مقامی شہد کی مکھیوں کو ہی خطرہ نہیں بلکہ سارے ہی پولینیٹرز خطرے میں ہیں ،پاکستان کے قیام کے وقت یہاں پر 6 مختلف اقسام کی مقامی مکھیاں پائی جا تی تھیں ،مگر اب پاکستان میں صر تین مقامی شہد کی مکھیاں رہ گئیں ہیں اور باقی ختم ہو چکی اور یہ تین بھی خاتمے کے قریب ہیں ۔موسماتی تبدیلیوں ک اثرات اپنی جگہ لیکن سب سے بڑا ایشو یہ ہے کہ جب سے پاکستان میں ڈیجیٹل ٹاورز کی تنصیب ہوئی ہے تب سے شہد کی مقامی مکھیاں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں ،20سے 25 سال قبل اس پر بات شروع ہو ئی کہ پاکستان میں ڈیجیٹل موبائل ٹاورز پالینیٹرز کےلئے خطرے کا باعث ہیں ۔دنیا میں اس پر تحقیق شروع ہو ئی ،کہ کس طر ان ٹاورز سے نکلنے والی ریڈیوفریکوئنسی شعائیں ،الیکٹرو میگنیٹک ویوز اور ڈیجیٹل سگنلز شہد کی مکھیوں پر منفی اثرات مرتب کررہے ہیں ،الیکٹرو میگنیٹک ویوز شہد کی مکھیوں کے Navigation system اور Pollination behaviour پر اثر ڈال رہی ہیں ،کچھ عرصہ اس پر بات ہوئی ،اس حوالے سے کچھ رپورٹس بھی مرتب ہو ئیں،(Colony Collapse Disorder) کی بات ہو ئی۔ اس کے مطابق ان ٹاورز کی تنصیب سے شہد کی مکھیوں کے return flight pettrens ہو رہے ہیں کیونکہ شہد کی مکھیاں اپنا راستہ بھول جا تی ہیں ،چھتوں سے غائب ہو جا تی ہیں۔یورپ میں اس پر بہت کام ہوا اور یہ طے پایا کہ Bee Protections Zones بنائے گئے ،تاکہ شہد کی مکھیاں ان ٹاروز کے سگنلز سے محفوظ رہ سکیں ۔لیکن پاکستان میں اس پر بات ہی نہیں ہو رہی ۔اور نہ ہی اس پر کوئی تحقیق ہو رہی ہے ۔ چونکہ موبائل انڈسٹری کمرشل بنیادوں پر کام کرتی ہے ،اس میں پیسے کا بہت عمل دخل ہے تو ان رپورٹس کو وہیں دبا دیا گیا اور آج 25 سال بعد بھی اس پر بات نہیں ہو رہی ۔اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کی کٹائی ،موسمیاتی تبدیلی اور سب سے سے بڑھ کرپاکستان میں کوئی بائیوڈائیورسٹی ایکٹ نہ ہونا بھی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے ،بلوچستان کے وائلڈ لائف ایکٹ میں بائیوڈائیورسٹی کے حوالے سے کچھ چیزیں موجود ہیں لیکن وفاق اور باقی صوبوں میں ایسا کچھ نہیں۔کمرشل شہد کی مکھیوں کی فارمنگ بھی پاکستان کی مقامی شہد کی مکھیوں کےلئے خطرہ ہے ۔بہت سے ڈبے اٹھائے یہ غیر مقامی بی کیپرز پاکستان کے مقامی فارمرز کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،یہ موسم کی مناسبت سے اپنی مکھیاں اٹھائے پھرتے رہتے ہیں اور مقامی فامرز جو ایک ہی جگہ اپنی فارمنگ کرتے ہیں ان کو نقصان دیتے ہیں ۔جنگلات میں ان کمرشل بی کیپرز پر پابندی لگائی گئی کہ ان کی کمرشل مکھیوں کی وجہ سے مقامی شہد کی مکھیوں کی افزائش متاثر ہو رہی ہے ،یہ کمرشل مکھیاں کس بری طرح مقامی مکھی کے خاتمے کا باعث ہیں اسکےلئے ہمیں ناروے کو سامنے رکھنا چاہیے جہاں کمرشل شہد کی مکھیوں نے مقامی شہد کی مکھیاں ختم کر دی ہیں ۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے بی کیپر نوید احمد کہتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ کمرشل بی کیپینگ پر کام کیا ،اور اگر کمرشل بی کیپنگ کو نکال یا جا ئے تو مقامی مکھی سے شہد کی پیداوار کبھی پوری نہیں ہو سکتی 1981 میں میں نے بی کیپنگ پر کام شروع کیا ۔تب شہد کی پیداوار بہت زیادہ ہو تی تھی ۔خاص طور پر 1994 سے لیکر 2005 تک کا جائزہ لیا جا ئے تو 2005 تک 84 کلوگرام تک حاصل کرتے تھے ،لیکن پھر 2006 میں یہ پیداوار ایک دم سے کم ہو ئی ۔اور 20 کلو گرایم اور اس کے بعد 15 کلوگرام تک آئی ۔اور پھر یہ پیداوار کبھی بھی 2005 سے پہلی والی پوزیشن پر نہیں گئی ۔پاکستان سے پہلے 200 میں امریکہ میں یہی زوال شہد کی مکھیوں پر آیا اور وہاں شہد کی مکھیوں کی تعداد 30 سے 70 فیصد تک متاثر ہو ئیں اور اس وقت وہاں پر اس صورتحال کو (Colony Collapse Disorder)کا نام دیا گیا تھا ۔
مقامی مکھیاں تو جنگلات کی کٹائی اور موحولیاتی تبدیلی سے متاثر تھیں ساتھ ہی کمرشل شہد کی مکھیاں بھی (Colony Collapse Disorder) کا شکار نظر آئیں ۔اکثر چھتے خآلی ہو جا تے، اور یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ مکھیاں کہاں گئیں ،کیونکہ گر مکھیاں مر جا ئیں تب بھی انہیں چھتوں ہی میں ہونا چاہیے لیکن یہ مکھیاں غائب ہو جاتیں ۔مکھیاں ہمیشہ سورج سے ڈائریکشن لیتی ہیں لیکن 2005 کے بعد ہم نے دیکھا کہ اکثر مکھیاں راستہ بھول جا تیں ،ان کے رویوں میں تبدیلی آئی اور پروڈکشن میں بھی کمی ہو ئی ۔ہمیں جو وجہ سمجھ آئی وہ یہی تھی کہ آبادی بڑھ رہی ،ہائوسنگ سوسائیٹیاں بن رہیں جن کی وجہ سے جنگلات کٹ رہے درختوں میں کمی آرہی ،کھیتوں میں باقیات جلائی جاتیں ،فصلوں اور پھولںوں کے درختوں پر بے دریغ سپرے کا استعمال کیا جا تا جو شہد کی مکھیوں کےلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا اور اس سے شہد کی مکھیوں کے پورے پورے فارم ختم ہو تے جا رہے ۔ہم پروڈکشن بڑھا رہے شہد کی بہترین ملکہ پیدا کرتے ہیں اور کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہیں لیکن حقیقت میں شہد کی صنعت اور شہد کی مکھیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔

محمد خالد رفیق ،سائنٹفک آفیسر ہنی بی ریسرچ سینٹر انسٹیٹیوٹ اسلام آباد
ہماری تین مکھیاں مقامی ہیں اور ایک غیرملکی ہے ہم نہ صرف اس مکھی کی پروڈکشن بڑھانے اور شہد کی ملکہ پیدا کرنے کےلئے بھرپور اقدامات کرتے ہیں بلکہ مقامی مکھیوں کو بھی محفوظ کرنے کےلئے اقدامات کئے جا تے ہیں ،لیکن مقامی مکھیوں سے حآصل شہد ملکی ضرورت کےلئے کسی صورت کافی نہیں ،اسلئے سارا انحصار غیرملکی مکھی پر ہے ۔اور بی کیپرز کو بھی اسی مکھی کے حوالے سے ٹریننگ دی جا تی ہے ،ہم نے پورے ملک کے مختلف علاقوں میں بی کیپرز کو جد سائنسی بنیادوں پر ٹریننگ دی ہے تاکہ یہ بی کیپرز اپنی ضروریات پوری کرنے کےساتھ ساتھ شہد کی پیداوار میں اضافے میں بھی اپنا کردار ادا کریں ،اور اب تک ہم ہزاروں بی کیپرز کی ٹریننگ کر چکے ہیں ۔لیکن اس وقت پاکستان جن موسماتی تبدیلی کے چیلنجز سے گزر رہا ہے اس کے اثرات شہد کی مکھیوں پر بھی پڑ رہے ہیں ۔ایک طرف غیر معمولئ بارشیں شہد کی مکھیوں کےلئے نقصان دہ ہیں تو دوسری طرف موسمی شدت ،گرمی شہد کی مکھیوں کی افزائش کےلئے مسائل کا باعث ہے ۔درختوں کی کٹائی بھی مسائل میں اضافہ کر رہی ہے ،بڑھتی آبادی کی ضرورت پورا کرنے کےلئے بھی شہد کی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے ۔پاکستان میں مقامی شہد کی مکھیاں مسائل کا شکار ہیں لیکن ان کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے جہاں تک ڈیجیٹل ترقی کی بات ہے توشہری علاقؤں میں ان کے اثرات پا ئے جا تے ہیں ،مکھیاں راستہ بھول جا تی ہیں ،چھتوں میں واپس نہیں آتی لیکن پاکستان میں اسکے اثرات کم ہیں دنیا میں زیادہ ہیں کیونکہ پاکستان میں ابھی 4 جی چل رہا ہے اور وہ بھی شہری علاقوں میں۔اس لئے کسی حد تک شہروں میں ان ٹارو کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن چونکہ زیادہ تر شہد کی مکھیاں دیہات یا جنگلات میں ہو تی ہیں اور وہاں ابھی ٹیکنالوجی نہیں پہنچی تووہاں ہماری مکھیاں اس ڈیجیٹل اثرات سے محفوظ ہیں ۔
سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کرنے والی بین الاقوامی ویب سائٹ گلوبل فاریسٹ واچ (GFW) کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جنگلات کا نقصان مسلسل جاری رہا۔ دستیاب اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2020 سے 2023 تک ہر سال اوسطاً دو سے تین ہزار ہیکٹر جنگلاتی رقبہ ختم ہوتا رہا، جس کی بڑی وجوہات میں غیر قانونی کٹائی، آگ لگنے کے واقعات، زرعی پھیلاؤ اور ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ تاہم 2024 میں جنگلاتی نقصان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور تقریباً 9,500 ہیکٹر رقبہ ختم ہونے کی رپورٹ سامنے آئی۔اس کی نسبت پاکستان ٹیلی کام انڈسٹری کے اپنی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران ملک بھر میں سیلولر موبائل آپریٹرز (CMOs) کی جانب سے مجموعی طور پر 10,626 نئے ٹیلی کام سائٹس قائم کیے گئے۔سال بہ سال اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف برسوں میں نئی سائٹس کے اضافے کی شرح میں فرق رہا۔ 2019 میں ٹیلی کام کمپنیوں نے 2,861 نئی سائٹس قائم کیں، جو اس عرصے میں سب سے زیادہ سالانہ اضافہ تھا۔ 2020 میں نئی سائٹس کی تعداد کم ہو کر 1,761 رہ گئی، جبکہ 2021 میں دوبارہ اضافہ ہوا اور 2,219 سائٹس شامل کی گئیں۔ یہ اضافہ 2022 میں بھی جاری رہا، جب 2,451 نئی سائٹس قائم کی گئیں، تاہم 2023 میں یہ تعداد دوبارہ کم ہو کر 1,334 نئی سائٹس تک محدود ہو گئی۔ٹیلی کام آپریٹرز میں جاز (Jazz) نے سب سے زیادہ توسیع کی اور پانچ سالہ مدت کے دوران 3,092 نئی سائٹس قائم کیں۔ اس کے بعد زونگ (Zong) نے 2,854، یوفون (Ufone) نے 2,510 اور ٹیلی نار (Telenor) نے 1,900 نئی سائٹس شامل کیں، جبکہ ایس سی او (SCO) نے 270 سائٹس قائم کیں۔
اگر ہم موازنہ کریں تو ملک میں سالانہ بنیادوں پر درختوں کی کمی ہو رہی ہے جنگلات کٹ رہے ہیں اور دوسری طرف موبائل ٹاورز میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

پاکستان نیشنل بائیوڈائیورسٹی ایکشن پلان 2030-2017 کے مطابق پاکستان میں حیاتیاتی تنوع خطرے میں ہے مگر تحفظ کا نظام بہت کمزورہے، ۔یہ رپورٹ خبر دار کرتی ہے کہ اگر پاکستان نے ادارہ جاتی اصلاحات ،کمیونٹی شمولیت اور تحقیق کو فوری ترجیح نہ دی تو حیاتیاتی تنوع کا نقصان ناقابل واپسی پے ۔رپورٹ اس بات پرزور دیتی ہے کہ قدرتی ماحولیاتی نظام اور مساکن کا تحفظ ناگزیر ہے ،کیونکہ یہی پولی نیٹرز بقا کی بنیاد ہیں ،رپورٹ اعتراف کرتی ہے کہ پولی نیٹرز کی آبادی ،انکے رجحانات ،کردار بارے ڈیٹا بہت محدود ہے ،پولی نیٹرز جیسے اہم جانداروں کے تحفظ کے اقدامات کاغذ سے نکل کر زمینی حقائق کے مطابق عملدرآمد کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔رپورٹ کے مطابق پولینیٹرز خاص طور پر شہد کی مکھیوں کو جن چیزوں سے خطرہ ہے ان میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ،بارشوں کا غیر یقینی نظام ،اور موسموں کی تبدیلی اہم وجوہات ہیں ،کیونکہ یہ تمام وجوہات کسی نہ کسی انداز میں پھولوں اور پھلوں پر نظر انداز ہوتے ہیں اگر پھول وقت پر نہ کھلیں تو شہد کی مکھیوں کو خؤراک نہیں ملے گی جس سے شہد کی مکھیوں اک قدرتی کیلنڈر بگڑ جا ئے گا اور یوں اس کے خطرناک اثرات رتب ہو نگے ۔اسی لئے یہ رپورٹ Climate resilient ecosystems کی بات کرتی ہے ۔
حالیہ پاکستان نیشنل بائیوڈائیورسٹی ایکشن پلان 2025-2030میں پالیسی میکرز کی طرف سے یہ اعتراف کیا گیا کہ قدرتی ایکو سسٹم کمزور ہو رہے ہیں ،پولی نیٹرز پرڈیٹا نہ ہونے کے برابر ہے ،تحفظ کے اقدامات کاغذی حد تک محدود ہیں ۔رپورٹ کے مطابق پولی نیٹرز کی بقا کا فریم ورک ایسے ترتیب دیا جا سکتا ہے ،ان پولینیٹرکے مساکن کا تحفظ ،محفوظ سپرے کا استعمال ،کمیونٹی شمولیت ،تحقیق اور مانیٹرنگ ۔

پاکستان میں زرعی پالیسی کا مطلب صرف اورصرف پیداوار میں اضافہ ہے ۔ماحولیات اور ماحولیاتی اثرات سے بچاو صرف کاغزی وعدوں تک محدود ہیں ۔شہد کی صنعت صرف برآمدات کے تناظر میں دیکھی جا تی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی شہد کی مکھی ایپس سیریانا Apis cerana کی فارمنگ کی حوصلہ افزائی کی جا ئے اورجنگلی چھتوں کا قانونی تحفظ کیا جا ئے ۔Bee-friendly pesticides اسپرے کا استعمال کیا جائے ،اور ٹائمنگ کا خیال رکھا جائے ، پولینیٹرز کا باقاعدہ سالانہ بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کیا جائے ۔تاکہ اندازہ ہو سکے کہ شہد کی مکھیوں سمیت کن پولینیٹرز کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے اور کیا خطرات لاحق ہیں ۔
NABU (Nature and Biodiversity Conservation Union)
جرمنی کے ایک تحقیقاتی ادارے نے شہد کی مکھیوں، کالونی کولیپس ڈس آرڈر (CCD) اور موبائل/ریڈیو فریکوئنسی (EMF) کے ممکنہ اثرات پر غیر سرکاری، پرتشویش مگر تحقیق کی بنیاد پر دعوے سامنے آئے جس میں انہوں نے درج ذیل پوائنٹس ہائی لائٹ کئے ۔
NABU نے 190 سائنسی مطالعات کا تجزیہ کیا، جن میں سے 83 کو سائنسی لحاظ سے متعلقہ سمجھا گیا، اور ان میں 72 مطالعات میں insects جیسے bees, wasps اور flies پر ریڈی ایشن کے منفی اثرات دیکھے گئے۔
نیویگیشن (navigation) شہد کی مکھیوں کو کمزور کر سکتی ہے یعنی مکھیاں راستہ بھول سکتی ہیں، جس سے وہ چھتے میں واپس نہیں پہنچتیں۔
چاندی/کیلشیم چینلز کھلنے سے خلیوں میں کیمیکل تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جو Biochemical Chain Reaction پیدا کرتی ہیں، جس سے insects کی بائیولوجیکل فعالیت متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ موبائل ٹاورز اور موبائل ریڈی ایشن magnetic field کو متاثر کر سکتی ہے، جو شہد کی مکھیاں اور دیگر pollinators اپنی سمت ایسے اپنے نیویگیشن کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
ریڈی ایشن ممکنہ طور پر insects کے circadian rhythms (روز مرہ کے بائیولوجیکل چکر) اور immune system کو متاثر کرتی ہے، جس سے وہ بیماریوں اور دیگر دباؤ کا مقابلہ کم مؤثر طریقے سے کر پاتے ہیں۔
نیبو کے سربراہ Baden-Wuerttemberg نے کہا کہ “ہمارے اردگرد EMF کے ممکنہ منفی اثرات پر بھی نگاہ رکھنی چاہیے، خاص طور پر 5G ٹیکنالوجی کے حوالے سے”جو بہت ضروری ہے۔
یورپی یونین، بھارت اور اسپین میں ہونے والی سائنسی تحقیق 2023 کے مطابق الیکٹرو میگنیٹک ویوز مکھیوں کے
پر اثر ڈالتی ہیں،اور ان کی آبادی میں 20–30 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے ۔

کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا (Colony Collapse Disorder)پاکستان میں
CCD سب سے پہلے 2004–2007 میں امریکہ میں رپورٹ ہوا۔2007–2011 تک بڑے CCD جیسے واقعات کینیڈا، یورپ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں رپورٹ ہوئے۔
جن ممالک نے سی سی ڈی کو سنجیدگی سے لیا اور اسے (Colony Collapse Disorder) کانام دیا انہوں نے اس کے حل کا راستہ بھی نکالا،مگر چونکہ پاکستان میں عام طور پر تحقیق کی طرف توجہ نہیں دی جا تی اور مسائل کو پس پشت ڈال کر وقت گزاری کی جا تی ہے تو وہاں مسائل جوں کے توں رہتے ہیں اور سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹی جا تی ہے اگر پاکستان نے اس مسئلے کی سنجیدگی کو نہ سمجھا تو شاید نہت دیر ہو جا ئے ۔
اگر پاکستان نے حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا اور پولی نیٹرز کو نہ بچایا تونہ بائیوڈائیورسٹی بچے گی ،نہ فوڈ سیکیورٹی اور نہ ہی شہد کی صنعت ۔حقیقت یہ ہے کہ شہد کی مکھی صرف شہد نہیں بناتی ،بلکہ وہ ہماری خؤراک ،معیشت اور ماحولیاتی نظام کو زندہ رکھتی ہے ۔
ڈیٹا کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ
پاکستان میں کسی بھی سرکاری دستاویزمیں یہ نہیں لکھا اور نہ ہی کوئی ایسا ڈیٹا دستیاب ہوجس سے یہ ثابت ہو کہ کوئی مقامی مکھی مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے ،لیکن دوسری طرف مکھیوں کی آبادی میں شدید کمی اور مقامی مکھیوں کا خاتمہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے ۔
زرعی پالیسی = صرف پیداوار
ماحولیات = کاغذی وعدے
شہد کی صنعت = صرف برآمدات
مقامی مکھی کہیں شامل نہیں
“نیشنل انسیکٹ میوزیم کے مطابق پاکستان کی مقامی شہد کی مکھیاں قدرتی پولی نیشن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔”
حکومت سمیت تمام اداروں کو یہ احساس دلایا جا ئےکہ ڈیجیٹل ترقی ضروری ہے مگر ماحولیاتی زمہ داری کے ساتھ ۔۔۔کیونکہ اس ماحول اور اس میں بسنے والے جانداروں کی وجہ سے ماحولیاتی توازن قائم ہے ۔
شہد کی صنعت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اور
ہونا چاہیے ۔ Assessment Impact Environmental ہر نئے 5 جی ٹاور سے پہلے
5جی فریکوئنسی ٹیسٹ کے دوران یورپ ،امریکہ اور پڑوسی ملک انڈیا کی طرح ZONE SAFE BEE قائم کئے جا ئیں ۔تاکہ شہد کی مقامی مکھیوں سمیت تمام پولینیٹرز کو ڈیجیٹل ٹاور کی ریڈیئشن سے بچایا جا سکے ۔
ٹیلی کام کمینیوں کو Tech Radiation Low اور Towers Energy Renewable استعمال کرنےکی ترغیب دی جا ئے ۔۔
موسمیاتی تبدیلی: بڑھتے اثرات، کمزور ترجیحات
ایک جانب پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید اور مسلسل بڑھتے اثرات کی زد میں ہے۔جن میں شدید گرمی، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور زرعی بحران شامل ہیں، مگر دوسری جانب حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی یہ متقاضی ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مربوط، شفاف اور قابلِ رسائی ڈیٹا نہ تو سرکاری ادارے فراہم کرنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی بیشتر نجی ادارے اسے اپنی ترجیح سمجھتے ہیں۔
ڈیٹا کی عدم دستیابی: ایک خاموش رکاوٹ
اس تحقیقی اسٹوری کے سلسلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اور سیلولر کمپنیوں کے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اور موقف کے حصول کے لیے باضابطہ رابطہ کیا گیا۔ تاہم تاحال صرف یہی جواب موصول ہوا ہے کہ معاملہ “متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیا گیا ہے” اور “جواب ملنے کی صورت میں فراہم کر دیا جائے گا”۔
تحقیقی صحافت میں ڈیٹا کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہوتی ہے۔ جب کوئی صحافی موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر یا 5G جیسے حساس موضوعات پر کام کرتا ہے تو اعداد و شمار، پالیسی دستاویزات اور تکنیکی معلومات اس کے لیے ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ کسی بھی تحقیقی یا پالیسی بیسڈ اسٹوری کے لیے تمام فریقین کا موقف اور مستند ڈیٹا نہ صرف اسٹوری کو مضبوط بناتا ہے بلکہ اس کی ساکھ اور توازن کے لیے بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں اکثر ادارے موقف دینے اور ڈیٹا فراہم کرنے میں غیر ضروری ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس سے تحقیقی صحافت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جب کسی تحقیقی اسٹوری سے ادارہ جاتی یا معاشی مفادات پر زد پڑنے کا اندیشہ ہو تو عموماً:
پہلے ڈیٹا فراہم کرنے میں تاخیری حربے اختیار کیے جاتے ہیں
پھر اس موضوع کو غیر اہم یا “غیر سائنسی” ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے
اور بعض صورتوں میں، اگر صحافی ڈیٹا کے حصول پر اصرار کرے، تو دباؤ، دھمکیوں اور ہراسانی جیسے ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جاتے ہیں
یہ رویّہ نہ صرف آزادیٔ صحافت بلکہ ماحولیاتی شفافیت اور عوامی مفاد کے بھی منافی ہے۔
