فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع اور مارخور کے عالمی دن پر قومی تقریب

0

سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی، اور فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے حیاتیاتی تنوع کا عالمی دن اور مارخور کا عالمی دن منایا گیا۔ تقریب میں شعبہ ماحولیاتی علوم کے سینکڑوں طلبہ و طالبات، اساتذہ، اور حکومتی عہدیدار شریک ہوئے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی نعیم اشرف راجہ، ڈائریکٹر بائیوڈائیورسٹی، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، تھے جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں حیاتیاتی تنوع محض قدرتی ورثہ نہیں بلکہ ہماری خوراک پانی اور موسمیاتی استحکام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھیں اور اس کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری جانیں۔ پاکستان دنیا کےان چند ممالک میں شامل ہوتا ہے جن کو قدرت نے ہر چیز سے نوازا ہوا ہے۔ پاکستان میں پائی جانے والی حیاتیاتی تنوع کا دنیا بھر میں تذکرہ کیا جاتا ہے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن جیسے ادارے اس حیاتیاتی تنوع کو مزید فروغ دینے اور اس کے تحفظ میں کارفرماں ہے جو مستقبل کےلئے نیک شگون ہے۔ اس سال کا خصوصی پیغام بھی مقامی سطح پر وہ سرگرمیاں ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح کا اثر پیدا کرنا ہے لہٰذا ہم سب اس حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے، اس کی تشہیر کرنے اور پھر اس کو تحفظ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی، اور فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے حیاتیاتی تنوع  کا عالمی دن اور مارخور کا عالمی دن منایا گیا۔ تقریب میں شعبہ ماحولیاتی علوم کے سینکڑوں طلبہ و طالبات، اساتذہ، اور حکومتی عہدیدار شریک ہوئے۔

تقریب کے گیسٹ آف آنر ڈاکٹر سید محمود ناصر، سابق انسپکٹر جنرل، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ پاکستان کے گلیشیئر، جنگلات اور پہاڑی وادیاں آج شدید دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ کا کام نہ تو آسان ہے، نہ مختصر، لیکن اگر شروع نہ کیا جائے تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں برفانی چیتا اور مارخور جیسے نایاب جانور پائے جاتے ہیں جو دنیا کے کسی کونے میں نہیں ملیں گے۔ اس جنگلی حیات کا تحفظ در حقیقت فطرت کا تحفظ ہے جس سے ہم سب جڑے ہوئے ہیں۔
تقریب کا سب سے دلچسپ حصہ ای پوسٹر پریزینٹیشن تھی، جس میں طلبہ نے ماحولیاتی موضوعات پر اپنی تحقیق پیش کی۔ غیر قانونی شکار، جنگلی حیات کی تجارت، موسمیاتی تبدیلی اور مارخور کے تحفظ جیسے موضوعات پر بنائے گئے پوسٹرز نے شائقین کی خاصی توجہ حاصل کی۔ تقریب میں شعبہ ماحولیاتی سائنس کے اساتذہ و فیکلٹی نے بھی شرکت کی جن میں پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افتخار ،چیئرپرسن شعبہ ماحولیاتی سائنس، پروفیسر ڈاکٹر روحامہ گل، ڈاکٹر شاہین بیگم، ڈاکٹر اسما جبین،ڈاکٹر سپنا، ڈاکٹر قرات العین ندیم، ڈاکٹر ارم ظہیر،، ڈاکٹر جویریہ شبنم، ڈاکٹر مہوش جمیل نور، سونیا فاطمہ و دیگر موجود شامل تھے۔

 سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی، اور فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے حیاتیاتی تنوع  کا عالمی دن اور مارخور کا عالمی دن منایا گیا۔ تقریب میں شعبہ ماحولیاتی علوم کے سینکڑوں طلبہ و طالبات، اساتذہ، اور حکومتی عہدیدار شریک ہوئے۔

سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی طرف سے ڈائریکٹر/ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرزآمنہ زبیری، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر الدین اور کمیونیکیشن آفیسر فہیم اختر لون نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر سینئر مہمانوں کو شیلڈز پیش کی گئیں، جبکہ ایونٹ منتظمین اور ای پوسٹر شرکاء کو سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔
تقریب میں سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن اور مارخور کے عالمی دن کے مناسبت سے تقریب کے اہتمام کوخوش آئند قرار دیدیا گیا۔ اس موقع پر ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن آمنہ زبیری نے اپنے خطاب میں شرکا کو خوش آمدید کہا اور انہوں نے فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جن کے تعاون سے تقریب پایہ تکمیل تک پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پرروشنی دالتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن نے پہلی بار پاکستان میں کیمرہ ٹریپنگ اور جینیاتی تجزیے کے ذریعے برفانی چیتے کی آبادی کا سائنسی اعتبار سے اندازہ لگایا جو پاکستان کی تاریخ میں جنگلی حیات کےلئے ایک اہم قدم اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انسان اور جنگلی حیات کے تصادم کو کم کرنے کی کوششیں اب 65 وادیوں تک پھیل چکی ہیں، جو تقریباً 40 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔
اب تک 9 سو سے زائد افراد کو سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن نے جنگلی حیات کے سروے اور غیر قانونی تجارت کے خلاف اقدامات میں تربیت دیدی ہے جن میں محکمہ جنگلی حیات گلگت بلتستان، خیبرپختونخواہ اور آزاد کشمیر کے زمہ داران بھی شامل ہیں۔ سنو لیپرڈفاؤنڈیشن نے اکیڈیمیا میں بھی کارہائے نمایا سرانجام دیا ہے اور اب تک 41 طلبا و طالبات کے ایم فل جبکہ 6 پی ایچ ڈیز کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور ہر ممکن تعاون یقینی بنایا جبکہ مجموعی طور پر 100 سے زائد سائنسی مقالات بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ پہاڑی علاقوں کے اسکولوں میں ۵۰ طلبہ نیچر کلب قائم کیے گئے ہیں، جن میں تقریباً ۱۲ سو طالبِ علم ارکان شامل ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.