"ارتھ ڈے: ایک دن کی ذمہ داری یا مستقل جدوجہد؟”

0

شکیلہ جلیل

shakila.jalil01@gmail.com

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 22 اپریل کو Earth Day منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد زمین کے تحفظ، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی سرکاری و غیر سرکاری سطح پر سیمینارز، شجرکاری مہمات اور آگاہی واکس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لیکن بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا صرف ایک دن منا لینا واقعی ہمارے ماحول کو بچا سکتا ہے؟

سال 2026 میں اس دن کا تھیم “Our Power, Our Planet” رکھا گیا ہے، جو اس بحث کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ یہ تھیم واضح کرتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومتوں یا عالمی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، ہر کمیونٹی اور ہر ادارے کی مشترکہ طاقت سے ممکن ہے۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عام شہری، اساتذہ، مزدور اور خاندان اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹے مگر مؤثر اقدامات کے ذریعے بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں—چاہے وہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی ہو، پانی کا تحفظ ہو یا قابلِ تجدید توانائی کی طرف قدم۔

مگر زمینی حقیقت اس سے کچھ مختلف نظر آتی ہے۔

پاکستان میں ارتھ ڈے کی تقریبات اکثر نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سبز پیغامات، درخت لگانے کی تصاویر اور ماحول دوستی کے دعوے تو بھرپور انداز میں سامنے آتے ہیں، مگر عملی اقدامات کا تسلسل کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ماحولیات اسے "symbolic activism” قرار دیتے ہیں—یعنی وقتی شعور تو پیدا ہوتا ہے مگر دیرپا تبدیلی نہیں آتی۔

یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب ہم پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے حقیقی اثرات کو دیکھتے ہیں۔ شدید گرمی کی لہریں، غیر متوقع بارشیں اور تباہ کن سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ خصوصاً 2022 Pakistan floods نے یہ حقیقت بے نقاب کر دی کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک عالمی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک فوری اور سنگین مقامی بحران ہے۔

2026 کے تھیم کے تحت "Planet vs. Plastic” جیسے پہلو بھی شامل کیے گئے ہیں، جو پلاسٹک آلودگی کے خلاف عوامی سطح پر جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ پلاسٹک کا بے تحاشہ استعمال جاری ہے، ویسٹ مینجمنٹ کا نظام کمزور ہے، اور شہری و دیہی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر روزمرہ کا منظر بن چکے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس عالمی پیغام کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں یا اسے بھی ایک وقتی مہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ماحولیاتی مسائل کی جڑیں پاکستان میں بہت گہری ہیں—بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، صنعتی آلودگی، اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ایسے چیلنجز ہیں جو صرف ایک دن کی سرگرمیوں سے حل نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر ماحولیاتی قوانین اور شجرکاری مہمات کا اعلان کیا جاتا ہے، مگر ان پر عملدرآمد اکثر کمزور رہتا ہے۔ درخت لگائے جاتے ہیں، مگر ان کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی؛ قوانین بنائے جاتے ہیں، مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں 2026 کا تھیم ایک تنقیدی سوال اٹھاتا ہے: کیا واقعی "Our Power” یعنی عوامی طاقت کو استعمال کیا جا رہا ہے؟

اگر عوامی سطح پر شعور کو عملی رویوں میں نہ بدلا جائے تو یہ تھیم بھی محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ شہری اپنی روزمرہ زندگی میں تبدیلی لائیں—پلاسٹک کا کم استعمال، پانی اور بجلی کی بچت، اور ماحولیاتی ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ اس شعور کو مستقل رویے میں تبدیل کریں، نہ کہ اسے صرف ایک دن تک محدود رکھیں۔

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد اور 190 سے زیادہ ممالک میں ارتھ ڈے منایا جاتا ہے، جو اس کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ عالمی دن مقامی سطح پر حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ارتھ ڈے منانا اپنی جگہ اہم ضرور ہے، مگر یہ کافی نہیں۔
اگر ہم واقعی اپنے سیارے کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دن کی نمائشی سرگرمیوں سے نکل کر ایک مستقل، سنجیدہ اور اجتماعی جدوجہد کی طرف بڑھنا ہوگا۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے:
“Our Power, Our Planet” ….. لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اپنی اس طاقت کو استعمال کر رہے ہیں؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.