دوشنبے واٹر پراسیس اور عالمی پانی ایجنڈا: پیش رفت اور چیلنجز

0

SDG-6 کے اہداف اور دوشنبے پراسیس کے باوجود پانی کی قلت برقرار

شکیلہ جلیل

shakila.jalil01@gmail.com

اسلام آباد: دنیا بھر میں پانی کا بحران ایک تیزی سے بڑھتا ہوا ماحولیاتی، معاشی اور سیکیورٹی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2018 سے 2028 تک کے عشرے کو "Water for Sustainable Development” کے نام سے مختص کیا ہے، جس کا مقصد SDG-6 یعنی صاف پانی اور صفائی تک عالمی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
اسی عالمی ایجنڈے کے تحت تاجکستان نے "Dushanbe Water Process” کا آغاز کیا، جس کے تحت ہر دو سال بعد اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنسز منعقد کی جاتی ہیں تاکہ پانی کے وسائل کے بہتر انتظام اور عالمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

عالمی سطح پر واٹر ایجنڈا: وعدے اور پیش رفت

پہلی کانفرنس 2018 میں دوشنبے میں منعقد ہوئی، جس میں 100 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں "Dushanbe Declaration” کے ذریعے پانی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کرنے، عالمی شراکت داری بڑھانے اور پانی کے مسئلے کو ترقیاتی ایجنڈے کے مرکز میں لانے پر زور دیا گیا۔
2022 کی کانفرنس میں COVID-19 کے بعد پانی کے نظام کی بحالی، ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے استعمال، اور SDG-6 کے اہداف کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز رہی۔
2024 کی کانفرنس میں "Water Action Agenda” پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور پالیسی و عملی اقدامات کے درمیان خلا کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
عالمی سطح پر ان کانفرنسز کے نتیجے میں پانی کے مسئلے کو کلائمیٹ ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا اور بین الاقوامی تعاون میں اضافہ ہوا، تاہم SDG-6 کے اہداف اب بھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔
عالمی اداروں کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 2.2 ارب افراد محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ پانی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔
زیرِ زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، خاص طور پر زرعی اور شہری علاقوں میں، جبکہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے دریائی نظام پر بھی شدید دباؤ ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی اب صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ معاشی اور سیاسی طاقت کا اہم عنصر بن چکا ہے۔

پاکستان: پانی کا بڑھتا ہوا بحران

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی صورتحال تیزی سے تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ شہری آبادی میں اضافہ، زرعی ضروریات اور موسمیاتی تبدیلی نے پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے شہروں میں پانی کی طلب اور رسد کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں آبادی ٹینکر سسٹم پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر پنجاب کے کئی اضلاع میں یہ رجحان زیادہ واضح ہے۔

دوشنبے 2026: ایک اہم موقع

25 سے 28 مئی 2026 کو دوشنبے میں ہونے والی چوتھی ہائی لیول کانفرنس کو اس سلسلے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کانفرنس میں SDG-6 کی تیز رفتار تکمیل، Water Action Agenda پر عملدرآمد، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، اور پانی تک مساوی رسائی جیسے اہم نکات زیرِ بحث آئیں گے۔
متوقع طور پر اس کانفرنس میں نئی عالمی حکمت عملی اور تعاون کے فریم ورک پر اتفاق کیا جائے گا۔

سوالات جو جواب طلب ہیں

ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا عالمی کانفرنسز زمینی حقیقت میں کوئی تبدیلی لا رہی ہیں یا نہیں۔
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان، ان عالمی وعدوں سے کس حد تک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پانی کے وسائل کا انتظام اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک گورننس اور پالیسی چیلنج بھی بن چکا ہے۔
دوشنبے واٹر پراسیس نے عالمی سطح پر پانی کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم عملی سطح پر پیش رفت اب بھی محدود نظر آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک عالمی پالیسیز کو مقامی سطح پر مؤثر عملدرآمد سے نہیں جوڑا جاتا، پانی کا بحران مزید شدت اختیار کرتا رہے گا۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.