نمبر، نصیب اور نئی شروعات ، ناکامی سے اے ون گریڈ تک کا سفر
جب نمبر کم آئیں لیکن حوصلہ بلند ہو ،ایک طالبعلم کی سچی کہانی جو گر کر پھر سنبھلا، اور سب کے لیے مثال بن گیا
تحریر: عبداللہ یعقوب عزیز
abdullahyaqoob724@gmail.com
ہم ایک ایسے وقت میں جی رہے ہیں جہاں کامیابی کا معیار صرف ایک چیز سے ناپا جاتا ہے: نمبرز۔ ہر بچہ، ہر طالب علم، اور ہر ماں باپ چاہتے ہیں کہ وہ سب سے آگے نکلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ رشتہ داروں اور سوسائٹی میں بھی ان کا نام سب سے اوپر ہو۔
ایک بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو سب کا مرکز بن جاتا ہے۔ ماں کی آغوش، دادی کی کہانیاں، اور گھر کا سکون — یہ سب صرف اس کے لیے ہوتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، یہ محبتیں آہستہ آہستہ توقعات میں بدلنے لگتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچہ اسکول جائے گا تو وہ سیکھے گا، مہذب بنے گا، اور تربیت پا لے گا۔ لیکن یہ بات اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ تربیت کی بنیاد ہمیشہ گھر سے ہی اٹھتی ہے۔ ماں، جو بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے، آج کے دور میں ایک فون اسکرین میں بدل گئی ہے۔ جب بچہ روتا ہے، تو اسے لپٹا کر چپ کروانے کے بجائے موبائل پر ویڈیو چلا دی جاتی ہے تاکہ وہ خاموش ہو جائے۔
جب وہ تین سال کا ہوتا ہے، تو اسے ٹیوشن بھیج دیا جاتا ہے۔ الف، بے، پے کے بجائے الفاظ کا بوجھ اس کے ذہن پر لاد دیا جاتا ہے۔ پانچ سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ دلوا دیا جاتا ہے — جہاں اس کا پہلا دن آنسوؤں سے شروع ہوتا ہے۔ وہ ماں سے لپٹتا ہے، ضد کرتا ہے، "امی، نہیں جانا!” مگر معاشرے کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے اسے کلاس روم کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔
اسکول میں استاد نصیحت کرتے ہیں: محنت کرو گے تو کامیاب ہو گے۔ سادہ اور سنجیدہ لہجے میں کہے گئے یہ الفاظ ایک چھوٹے سے ذہن میں دباؤ اور مقابلے کا تصور ڈال دیتے ہیں۔ بچہ روز صبح اسکول اور شام کو ٹیوشن کے چکر میں لگا رہتا ہے۔ وہ بچپن، کھیل، کہانیاں اور دوست — سب پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
وقت گزرتا ہے اور وہ طالب علم نویں جماعت میں قدم رکھتا ہے۔ یہاں ہر طرف سے ایک ہی پیغام سننے کو ملتا ہے: "یہ سال فیصلہ کن ہے”۔ ماں کہتی ہے: "اب بہت محنت کرنا، تمھارا مستقبل اسی پر ہے”۔ باپ سخت لہجے میں تنبیہ کرتا ہے: "اگر نمبر نہ آئے تو کام پر بھیج دوں گا”۔ استاد روز کلاس میں دہراتے ہیں کہ بورڈ کے امتحان کوئی عام امتحان نہیں ہوتے۔
بچہ دل و جان سے محنت کرنے لگتا ہے۔ ساری توجہ صرف پڑھائی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ دن رات کے فرق مٹ جاتے ہیں، نیند قربان ہو جاتی ہے، اور خواب صرف ایک رہ جاتا ہے — اچھے نمبر لینا۔
پھر بورڈ کا امتحان آتا ہے۔ وہی بچہ، جو چند سال پہلے اسکول کے گیٹ پر روتا تھا، اب پرچہ ہاتھ میں لیے دعاؤں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے۔ پرچہ اچھا ہوتا ہے، امید بندھتی ہے۔ لیکن اصل امتحان تو اب آنا ہے — انتظار کا۔
نتیجہ قریب آتا ہے تو ہر جانب سے سوالات شروع ہو جاتے ہیں۔ "کیا لگتا ہے، کتنے نمبر آئیں گے؟” وہ بچہ، جو سچی محنت کر چکا ہوتا ہے، دل ہی دل میں دعا مانگتا ہے کہ اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے۔ لیکن جب نتیجہ آتا ہے تو اس کی امیدوں سے کم نمبر ہوتے ہیں۔
اب طنز سننے کو ملتا ہے: "دیکھو، فلاں کا بیٹا تو A1 لے آیا”۔ "تمھاری کزن نے تو ٹاپ کر لیا”۔ وہی لوگ جو کل تک تعریف کر رہے تھے، آج موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ بچہ خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ خود سے سوال کرتا ہے: "میں نے کیا کمی کی تھی؟ میں کیوں پیچھے رہ گیا؟”
یہ لمحہ اس کے لیے سب سے مشکل ہوتا ہے۔ وہ لوگوں سے کترانے لگتا ہے، تنہائی پسند ہو جاتا ہے، اور یہاں تک کہ کبھی دل میں اللہ سے شکایت بھی پیدا ہونے لگتی ہے۔
لیکن ایسے وقت میں اگر کوئی ایک آواز ہو جو اُس کو دوبارہ اُٹھا سکے، تو وہ استاد کی ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے: "حوصلہ رکھو۔ ابھی سب ختم نہیں ہوا۔ اسی سال دوبارہ امتحان دو، اور بہتر نمبر لے کر دکھاؤ۔”
بچہ دوبارہ کتابیں کھولتا ہے۔ خاموشی سے، بغیر کسی شکایت کے، محنت میں لگ جاتا ہے۔ اس بار وہ زیادہ پختہ، زیادہ پُرامید اور زیادہ سنجیدہ ہوتا ہے۔ کچھ ہفتے گزرتے ہیں، اور دوسرا موقع آتا ہے۔
امتحان مکمل ہو جاتا ہے، اور پھر انتظار کا وہی مرحلہ دوبارہ۔
نتیجہ آتا ہے — اور اس بار… وہ A1 گریڈ حاصل کرتا ہے۔
اب وہی لوگ جو کل طنز کر رہے تھے، مبارکباد دے رہے ہوتے ہیں۔ خاندان، دوست، سب حیران ہوتے ہیں۔ "یہ وہی لڑکا ہے؟ کیسے ممکن ہوا؟”
لیکن اس بار بچہ خاموش رہتا ہے۔ نہ کوئی واہ واہ مانگتا ہے، نہ کوئی story لگاتا ہے۔ بس اپنے رب کے سامنے سجدے میں جھکتا ہے اور کہتا ہے:
"شکر ہے، رب کا احسان ہوا”
اور آخر میں…
شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ لڑکا کون ہے؟
تو سن لیجیے —
وہ لڑکا میں ہوں۔
جی ہاں — عبداللہ یعقوب عزیز۔
جس نے پہلے A گریڈ حاصل کیا، پھر اسی سال مزید محنت کر کے A1 لے آیا۔
اب میں پری میڈیکل کا طالب علم ہوں، اور یہ تحریر میری سچائی ہے۔ یہ صرف میرے لیے نہیں، ہر اس طالب علم کے لیے ہے جو ایک بار گرا ہو، لیکن اٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
اگر زندگی نے مہلت دی، تو اگلی تحریر میں کسی اور سچائی کو لفظوں میں ڈھالوں گا۔
تب تک… دعاؤں میں یاد رکھیے۔
"Bohat acha aur sochnay par majboor kar dene wala mazmoon hai. Mubarakbaad un tamam logon ko jinhon ne is informative piece par kaam kiya, khaaskar writer ko jis ne itni mehnat se yeh likha. Aise hi aur bhi achi writings ka intezar rahega!”
عبداللہ، آپ کی تحریر کے ہر لفظ میں سچائی، جذبہ اور حوصلہ جھلکتا ہے۔ آپ نہ صرف اچھے طالبعلم ہو بلکہ ایک باکمال لکھاری بھی ہو۔ ہمیشہ ایسے ہی حوصلہ دیتے رہو!
آپ کی تحریر بہت سے طالبعلموں کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ بہت کم لوگ اپنی سوچ کو لفظوں میں ڈھال سکتے ہیں۔
اللہ تعالٰی آپ کو مزید کامیابیاں عطا کریں ۔
آمین
Big fan of your articles.. morale bhut high ho jata ap ki tehreer parh kr
Well Done! 🙌🫶🏻
Heart touching passage ,may you always be successful and make yourself proud but in the race of the world donot forget what you actually want and work for it
Jazak Allah For your kind re ply ever
MashAllah good writing skills keep it up.
"Very well-written and informative article. I truly enjoyed reading it!”
Akhir main jo twsit hy bhut interesting hy…Congrats Abdullah
اللہ آپ کو مزید کامیاب کرے -(آمین)🫂❤️
!Well done
Very well written.
Amazing message
شاندار