مذاہب کے درمیان مکالمے سے عالمی ہم آہنگی کی نئی راہیں , آٹھویں کانگریس آستانہ میں
انتہاپسندی، نظریاتی تقسیم اور ماحولیاتی بحران کے دور میں مذاہب کے رہنما عالمی یکجہتی کے لیے ایک میز پر جمع ہوں گے۔
اسلام آباد: قازقستان میں کانگریس آف لیڈرز آف ورلڈ اینڈ ٹریڈیشنل ریلیجنز اپنی آٹھویں نشست کے ساتھ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بننے جا رہی ہے۔ یہ اجلاس 17 اور 18 ستمبر 2025 کو آستانہ میں ہوگا، جہاں دنیا کے بڑے مذاہب کے قائدین ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے عالمی ہم آہنگی کے لیے نئی راہیں تلاش کریں گے۔
یہ کانگریس پہلی بار 2003 میں اُس وقت شروع کی گئی جب 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد دنیا مذہبی بداعتمادی اور تہذیبی تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی۔ قازق قیادت نے اس نازک وقت میں یہ جرات مندانہ قدم اٹھایا کہ ایمان اور روحانی اقدار کو بطور سفارتی قوت بروئے کار لا کر انسانیت کو جوڑا جائے۔ آج یہ سلسلہ ایک باوقار پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر چکا ہے جو ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے۔
اس سال کانگریس کا مرکزی موضوع ہے: "مذاہب کا مکالمہ: مستقبل کے لیے ہم آہنگی”۔ اجلاس میں نظریاتی تقسیم، انتہاپسندی کے دوبارہ سر اٹھانے، بڑھتی معاشی و ثقافتی خلیج، ماحولیاتی بگاڑ اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلو جیسے عالمی چیلنجز پر غور کیا جائے گا۔
اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کے مطابق یہ کانگریس پاکستان کے آئینی عزم کی بازگشت ہے، جو مذہبی ہم آہنگی، مساوی بقائے باہمی اور اخلاقی حکمرانی پر زور دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی جدوجہد میں یہ سچائی دیکھی ہے کہ محض قوانین کافی نہیں ہوتے جب تک ان کی بنیاد اخلاقی اقدار پر نہ رکھی جائے۔
اجلاس میں مذہبی مقامات کے تحفظ پر خصوصی اجلاس بھی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں مقدس مقامات کی بے حرمتی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر یہ نہایت بروقت قدم ہے۔ کانگریس اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیبوں (UNAOC) کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گی اور اقوام متحدہ کے "پلان آف ایکشن فار پروٹیکشن آف ریلیجیس سائٹس” کی حمایت کرے گی۔
اس کانگریس میں نوجوانوں اور ڈیجیٹل چیلنجز پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ "ینگ ریلیجیس لیڈرز فورم” کے ذریعے یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ مستقبل کے وارث نوجوان ہیں جو آن لائن دنیا کے ابہام اور مصنوعی ذہانت کی پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹھویں کانگریس محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتی ہے، جہاں عالمی مذاہب کے رہنما انصاف، عاجزی اور بین الاقوامی یکجہتی کا نیا پیغام دیں گے۔
اسلام کی تعلیمات کے حوالے سے ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ قرآن کریم میں صاف پیغام ہے کہ انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے بنایا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں، اور یہ تنوع دراصل خدائی منصوبہ ہے۔
کانگریس سے امید کی جا رہی ہے کہ یہ دنیا کو دوبارہ اخلاقی اور روحانی اقدار کی جانب متوجہ کرے گی اور انسانیت کو نفرت و تقسیم کے بجائے اتحاد و یکجہتی کا راستہ دکھائے گی۔