"آزادی کا مفہوم: صرف جشن نہیں، ذمہ داریوں کا شعور بھی لازم”
77 سال بعد بھی ہم سوال کے دہانے پر ہیں , کیا ہم نے اپنے وطن کے نظریاتی مقصد کو پایا؟ آزادی صرف نعمت نہیں، ہر پاکستانی کا اخلاقی و قومی فرض ہے۔
تحریر ہما مریم
14 اگست ہماری تاریخ کا وہ دن ہے جو ہمیں اس بے مثال جدوجہد، قربانیوں اور شہادتوں کی یاد دلاتا ہے جن کی بدولت ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہوئی۔ یہ آزادی صرف سرحدوں کی لکیر کھینچنے یا ایک نئے نقشے کے بننے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نظریے پر مبنی ریاست کے قیام کی جدوجہد تھی۔ پاکستان کا قیام اسلامی اصولوں، عدل، مساوات، معاشرتی انصاف اور اقلیتوں کے تحفظ جیسے مقاصد کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ یہ ایک ایسا خواب تھا جس میں ہر فرد کو عزت، خودمختاری اور مذہبی آزادی حاصل ہو۔ مگر آج، ستتر سال گزرنے کے بعد، یہ سوال ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا ہم نے آزادی کے اس مقصد کو پورا کیا؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم بطور قوم اپنے اصل راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ آج کا پاکستان شدید سیاسی انتشار، معاشی بحران، ادارہ جاتی کمزوری اور سماجی بے چینی کا شکار ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی اور انصاف کی عدم دستیابی جیسے مسائل نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ نئی نسل، جو کسی بھی ملک کا سرمایہ اور مستقبل ہوتی ہے، آج مایوسی، بے چینی اور غیر یقینی کیفیت میں مبتلا ہے۔ انہیں وطن سے زیادہ سیاسی نعروں، رہنماؤں اور جماعتوں سے محبت سکھائی جا رہی ہے۔ ان کے ذہنوں میں وفاداری وطن کے بجائے مخصوص شخصیات اور جماعتوں کے لیے پروان چڑھ رہی ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
یہ درست ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سیاسی سوچ اور نظریہ رکھے، اور اس کا اظہار کرے۔ لیکن اس حق کے ساتھ ایک فرض بھی جڑا ہوا ہے — وطن سے محبت۔ اس ملک کی عزت و وقار کو ہر حالت میں مقدم رکھنا، اس کی سالمیت کے لیے دعاگو اور سرگرم رہنا، اور اس کے مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دینا، ایک سچے محب وطن شہری کا فریضہ ہے۔ جب ہم اختلاف کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ اپنے ہی ملک کی تضحیک، اپنے اداروں پر الزامات اور دشمن ممالک کی خوشی کا باعث بنیں، تو ہم دراصل اپنے وطن سے بے وفائی کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں اپنی نوجوان نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وطن ماں جیسا ہوتا ہے — چاہے بیمار ہو، کمزور ہو یا زخموں سے چور، محبت، وفاداری اور خدمت کا رشتہ اس سے کم نہیں ہوتا۔ موجودہ سیاسی و معاشی حالات، خواہ کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، ہمیں اپنی شناخت، اپنی سرزمین اور اپنے قومی مفاد سے روگردانی کا جواز فراہم نہیں کرتے۔ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتے ہوئے ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کو سیاسی نعروں کے بجائے حب الوطنی، رواداری، برداشت اور قربانی کا سبق دینا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ یہ وطن اگر نہ ہوتا تو ہم بے نام، بے شناخت اور بے ٹھکانہ ہوتے۔
آزادی کے مقصد کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشی استحکام، قانون کی بالادستی، تعلیم، انصاف اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہر شہری، بالخصوص نوجوان، وطن سے محبت کو اپنی ذات کا حصہ بنائے۔ حب الوطنی صرف نعرے لگانے یا جھنڈے لہرانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ عمل، کردار اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ شعور کہ "میرا ہر قدم میرے وطن کی بہتری کے لیے ہونا چاہیے” ہی وہ سوچ ہے جو ہمیں ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
یاد رکھیے، آزادی ایک عظیم نعمت ہے۔ ایسی نعمت جسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے آباو اجداد نے اپنا سب کچھ قربان کیا۔ اب یہ ہماری باری ہے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں۔ یہ ہمارا قومی، اخلاقی اور ایمانی فریضہ ہے کہ ہم ہر حال میں وطن کے ساتھ مخلص رہیں۔ اپنے ملک کی عزت و وقار کا تحفظ کریں، اسے درپیش مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرامن، ترقی یافتہ اور متحد پاکستان چھوڑیں۔