ڈاکٹر حسن داؤد کی جنوبی ایشیا کے ترقیاتی مسائل کے حل کے لیے علاقائی اتحاد اور جدت پر زور

چین کے شہر ژینگژو میں ایس سی او سمٹ سے خطاب میں بحریہ یونیورسٹی کے پروفیسر کا بی آر آئی کے تحت باہمی روابط، جامع ترقی اور اجتماعی استحکام کے فروغ کا مطالبہ

0

بیجنگ:  بحریہ یونیورسٹی میں سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سی ای ای سی پاکستان برانچ کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر حسن داؤد نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے میڈیا اور تھنک ٹینک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کو درپیش ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیں اور اختراعی حکمت عملی اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت ایشیا نے غیرمعمولی ترقی کی ہے، تاہم جنوبی ایشیا اب بھی دنیا کے کم ترین مربوط خطوں میں شامل ہے، جہاں خطے کے اندر تجارت کی شرح صرف 5 فیصد ہے، جو کہ یورپی یونین کی 60 فیصد داخلی تجارت کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ "سیاسی تقسیم خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور نقل و حرکت میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے،” انہوں نے کہا۔

ڈاکٹر داؤد نے نقل و حمل اور سمندری شعبوں میں اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ نئے مالیاتی طریقہ کار اور تعاون کے ماڈلز متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کوفی عنان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "عالمگیریت کی مخالفت کرنا ایسے ہی ہے جیسے کششِ ثقل کی مخالفت کی جائے۔ اس غیر یقینی دور میں ہمیں BRI اور SCO جیسے پلیٹ فارمز صرف روابط کے لیے نہیں، بلکہ اجتماعی استحکام کے لیے بھی درکار ہیں۔”

انہوں نے زور دیا کہ ایس سی او کو صرف تعاون کا فریم ورک نہیں بلکہ تبدیلی کی محرک قوت بنانا ہوگا، جو تعلیم، مالیات، صحت اور ڈیجیٹل مواقع تک مساوی رسائی کو فروغ دے۔ "حقیقی ترقی وہی ہے جو سب کو شامل کرے، مستقبل کے لیے موزوں ہو اور مشترکہ ہو،” ڈاکٹر داؤد نے کہا۔

انہوں نے چین کی SCO صدارت کے دوران قیادت کو سراہا، جس کے تحت 100 سے زائد تقریبات منعقد ہوئیں اور ’پائیدار ترقی کا سال‘ شروع کیا گیا، جس کا مقصد علاقائی امن اور مشترکہ خوشحالی کا فروغ تھا۔

عالمی سطح پر معاشی اور ماحولیاتی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں ڈاکٹر حسن داؤد نے امن و ترقی کے تحفظ کے لیے اتحاد، وژن اور حقیقت پسندانہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ ایس سی او میڈیا اور تھنک ٹینک سمٹ 23 سے 27 جولائی تک چین کے صوبہ ہینان کے شہر ژینگژو میں جاری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.