نجی تعلیمی ادارے پاکستان کی تعلیمی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں،ڈاکٹر ملک ابرار حسین

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر کادورہ اٹک کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

0

اسلام آباد /اٹک:آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر ملک ابرار حسین نے کہا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے پاکستان کے تعلیمی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر نے ہمیشہ اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔پسماندہ علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں کی ترقی اور تعلیم کے فروغ میں گورنرپنجاب اپنا کردار ادا کریں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اٹک اور جنڈ سمیت علاقہ کے دیگر نجی تعلیمی اداروں کے ہنگامی دورہ کے بعد پنجاب گروپ آف کالجز جنڈ میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پنجاب کالج جنڈ کے پرنسپل معروف ماہر تعلیم ملک مطیع اللہ, دانش اسکول کے ایڈمن آفیسر میجر (ر) شوکت خٹک، فورسز اسکول سسٹم جنڈ کے پرنسپل نوید نواز اور سابق صدر بار ایسوسی ایشن جنڈ، سفیر احمد فرخ بھی موجود تھے۔ ملک ابرار حسین نے کالج میں جاری شجرکاری مہم کے تحت پودا بھی لگایا اور پرنسپل کالج کو اعزازی شیلڈ پیش کی۔ ڈاکٹر ملک ابرار حسین نے بہترین نتائج پر پنجاب کالج انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ میٹرک کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ نے ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں سب سے زیادہ پوزیشنز حاصل کی ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نجی شعبہ کس قدر سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ ملک کے تعلیمی مستقبل کی تعمیر میں مصروف عمل ہے۔ڈاکٹر ملک ابرار حسین نے گورنر پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب، بالخصوص ضلع اٹک، تحصیل جنڈ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ وہاں کے طلبہ کو بھی وہی تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں جو شہری علاقوں کو حاصل ہیں تاکہ پورا ملک تعلیمی میدان میں یکساں ترقی کر سکے۔یہاں قائم نجی تعلیمی اداروں کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں مہنگائی، بھاری ٹیکسز اور حکومتی سطح پر عدم تعاون شامل ہے۔ اگر حکومت واقعی تعلیمی ترقی چاہتی ہے تو نجی اداروں کو سہولتیں فراہم کی جائیں، پالیسی سازی میں ان کی مشاورت کو شامل کیا جائے اور تعلیمی میدان میں ان کے کردار کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.