واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھاتے ہوئے یکم اگست سے 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد بھارتی میڈیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے ٹیرف ادا نہ کیا تو اسے بھاری جرمانہ بھی دینا ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ بھارت ہمیشہ خود کو دوست ظاہر کرتا رہا لیکن تجارت کے میدان میں اس نے امریکا سے کم کاروبار کیا۔ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف وصول کرنے والا ملک ہے مگر امریکا کو اس کا فائدہ نہیں دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے ہمیشہ روس سے بڑے فوجی سودے کیے اور توانائی کے لیے چین اور روس پر انحصار بڑھایا۔ اب بھارت کو صرف ٹیرف ہی نہیں، بلکہ تجارتی رویوں پر بھی جرمانہ دینا پڑے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے پہلے اپریل میں بھارتی مصنوعات پر 26 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا، جسے جولائی تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے بھارت میں ٹیسلا کار پلانٹ کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈالیں اور ایپل کو بھی متنبہ کیا کہ اگر اس کے آئی فون امریکا میں تیار نہ ہوئے تو اسے 25 فیصد ٹیرف دینا ہوگا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "امریکا میں فروخت ہونے والی ہر چیز، امریکا میں ہی بننی چاہیے۔ بھارت یا کسی اور ملک میں نہیں!”