ماسکو: روس کے مشرقی علاقے کامچاٹکا میں 8.8 شدت کے شدید زلزلے نے قیامت ڈھا دی، جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں سونامی کی 3 سے 4 میٹر تک بلند لہریں ٹکرائیں، درجنوں افراد زخمی اور کئی مکانات تباہ ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق زلزلے کا مرکز زمین میں صرف 20 کلومیٹر اور گہرائی 150 کلومیٹر تھی، جبکہ آفٹر شاکس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ کامچاٹکا ایئرپورٹ پر لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جب کہ سیویرو کورلسک میں کئی گھر سونامی کی نذر ہو چکے ہیں، جس کے بعد 2,700 افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
روسی حکام کے مطابق زلزلے کے بعد ایک گھنٹے میں 5 شدت کے 8 آفٹر شاکس آئے، جن کی گہرائی 7 سے 100 کلومیٹر تک ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین نے آئندہ ایک ماہ تک 7.5 شدت تک کے مزید آفٹر شاکس کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خطرے کے پیش نظر انڈونیشیا، جاپان، فلپائن، امریکا اور کینیڈا میں سونامی ایمرجنسی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ہوائی میں بندرگاہیں خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا، جب کہ مشرقی جاپان میں ریلوے سروس بند کر دی گئی ہے۔ فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ بھی احتیاطاً خالی کروا لیا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق جاپان میں 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ جاری کی گئی ہے، جب کہ امریکا کی ریاستیں کیلیفورنیا، واشنگٹن، اوریگن اور الاسکا بھی ہائی الرٹ پر ہیں۔
یاد رہے کہ 20 جولائی کو بھی روس میں شدید زلزلے آئے تھے، تاہم اس بار بحرالکاہل کے مرکز میں واقع اس قدرتی آفت نے عالمی سطح پر الرٹ جاری کروا دیا ہے۔ روسی ساحلوں پر ایک میٹر تک بلند لہروں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ امریکی ریاستوں اور جاپان میں کم شدت کی سونامی لہریں متوقع ہیں۔