لاہور: پنجاب کے عوام کے لیے ایک بڑی سہولت کی جانب پہلا قدم — صوبے کی پہلی جدید اور خودکار ریپڈ ٹرانزٹ (ART) بس لاہور پہنچ گئی۔ یہ بس جدید ٹریک لیس سسٹم پر مشتمل ہے اور ربڑ کے ٹائروں پر چلتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں پہنچنے والی یہ بس ایک جدید، مؤثر اور ماحول دوست سفری سہولت ہے جو عوام کی خدمت کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔
اپنی پوسٹ میں مریم نواز نے اس جدید بس کی ویڈیو بھی شیئر کی اور بتایا کہ یہ بس بغیر ریل کی پٹری کے چلتی ہے، اس میں بیک وقت 300 مسافر سفر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا ماڈل نہ صرف روایتی نظام سے ہٹ کر ہے بلکہ سرمایہ کاری کے مؤثر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ بس جلد ہی لاہور کی نہر روڈ پر ٹیسٹ رن کے لیے چلائی جائے گی تاکہ اس کی کارکردگی اور افادیت کو جانچا جا سکے۔
اپنے بیان میں مریم نواز نے مزید کہا کہ چین میں پنجاب کے لیے 1,100 الیکٹرک بسیں تیار کی جا رہی ہیں جن میں سے پہلی کھیپ کی 240 بسیں 22 اگست کو پاکستان پہنچیں گی۔ ان بسوں کو ایسے اضلاع میں بھیجا جائے گا جہاں عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولیات موجود نہیں۔
پروجیکٹ کے ڈیزائن پر ایل ڈی اے (LDA) اور نیسپاک (NESPAK) نے کام شروع کر دیا ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق منصوبے کے دوران کسی درخت کو نہیں کاٹا جائے گا جبکہ مال روڈ پر اورنج لائن اسٹیشن کی طرز پر کٹ اینڈ کور کے ذریعے زیر زمین ٹریک لیس ٹرام بھی چلانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔