پاکستان ،امریکا تعلقات میں غیر متوقع گرمجوشی، بھارت سخت پریشان

عاصم منیر کے دو دورے، سفارتی مہارت اور اہم معاہدوں نے واشنگٹن میں پاکستان کی پوزیشن بدل دی

0

اسلام آباد: عالمی شہرت یافتہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ایسی غیر متوقع بہتری آئی ہے جس نے بھارت کو خاصی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی روابط کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس سال موسمِ گرما میں دو بار امریکا کا اعلیٰ سطحی دورہ کیا۔ سب سے حالیہ دورہ فلوریڈا میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا کی ریٹائرمنٹ تقریب میں شرکت کے لیے تھا۔ اس سے قبل جون میں انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ دو گھنٹے کی ملاقات اور دوپہر کا کھانا شیئر کیا — یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں کی سب سے خونریز جھڑپ کے صرف ایک ماہ بعد ہوئی۔

ماضی میں صدر ٹرمپ پاکستان پر کھلے عام تنقید کرتے رہے، لیکن اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کے سینئر تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے اسے ایک "حیران کن دوبارہ آغاز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس غیر روایتی صدر کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا فن خوب سمجھ لیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان نے یہ کامیابی ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت حاصل کی — جس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، صدر ٹرمپ کے بزنس نیٹ ورک میں موجود اہم شخصیات تک رسائی، توانائی، معدنی وسائل اور کرپٹو کرنسی سے متعلق معاہدے شامل ہیں، ساتھ ہی وائٹ ہاؤس تک مثبت پیغام رسانی پر بھی توجہ دی گئی۔

مارچ میں پاکستان نے داعش، خراسان کے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے امریکی حکام کے حوالے کیا، جسے 2021 کے کابل ایئرپورٹ دھماکے کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس گرفتاری کو اپنے "اسٹیٹ آف دی یونین” خطاب میں پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

اپریل میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ کرپٹو کرنسی منصوبہ ورلڈ لبرٹی فنانشل اور پاکستان کے کرپٹو کونسل کے درمیان معاہدہ طے پایا، جس کے بانیوں میں سے ایک نے پاکستان کے وسیع معدنی وسائل کی تعریف کی۔

رپورٹ کے مطابق بھارت ان بدلتے تعلقات پر سخت برہم ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکا نے بھارت پر درآمدی ٹیرف 50 فیصد کر دیا، جبکہ پاکستان کے لیے یہ شرح صرف 19 فیصد رکھی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کے اس بیان کی بھی تردید کی کہ امریکا نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر میں ثالثی کی تھی۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی افواج کے براہِ راست رابطے سے طے پایا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.