بارانی زرعی یونیورسٹی میں پاک-چین بین الاقوامی تربیتی ورکشاپ کا آغاز

پانی کے مؤثر استعمال اور پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے جدید ٹیکنالوجیز پر ماہرین کی رہنمائی

0

پائیدار زراعت اور بین الاقوامی تعاون کی جانب ایک اہم قدم بڑھاتے ہوئے پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں پانی کے مناسب استعمال کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجیز پر ایک پاک چین بین الاقوامی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا انعقاد مشترکہ طور پر سنکیانگ تیانئے واٹر سیونگ ایریگیشن کمپنی لمیٹڈ (چین)، نیشنل انجینئرنگ ریسرچ سنٹر فار واٹر سیونگ ایریگیشن (سنکیانگ، چین) اور سینٹر فار ماڈرن ایگریکلچر اینڈ واٹر ایفیشینٹ ٹیکنالوجیز (CMAWET)، فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے اپنے ابتدائی کلمات میں ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، اور غذائی تحفظ جیسے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پانی کے تحفظ کی اہم اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی ہمارے انتہائی اہم اور محدود وسائل میں سے ایک ہے۔ پائیدار زراعت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ ورکشاپ ایک بروقت اقدام ہے، جس کا مقصد مقامی صلاحیت کو بڑھانا اور آبپاشی کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے ورکشاپ کی اہمیت کے متعلق کہا کہ اس میں چین سے آٹھ ماہر ٹرینرز جبکہ بارانی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے تین ماہرین بہترین تربیت فراہم کریں گے۔ اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد ماسٹر ٹرینرز تیار کرنا ہے جو پاکستان میں آبپاشی کے جدید طریقوں کو اپنانے اور پھیلانے میں رہنمائی کریں گے۔

اس بین الاقوامی تربیتی ورکشاپ میں ملک بھر سے سرکاری حکام، تکنیکی ماہرین، محققین، صنعت کے نمائندوں اور فارم مینیجرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران شرکاء ایک جامع تربیتی ماڈل سے مستفید ہوں گے جس میں کلاس روم سیشنز، فیلڈ مظاہرے، ہینڈ آن پریکٹس، اور تکنیکی مباحث شامل ہیں۔ یہ ورکشاپ 27 اگست 2025 تک جاری رہے گی، جو پاکستان اور چین کے درمیان زرعی اختراعات اور آبی وسائل کے مناسب انتظام کے لیے بہترین تربیت اور پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.