ملک کے بڑے دریاؤں میں شدید سیلابی صورتحال، این ڈی ایم اے اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر
چناب، راوی اور ستلج میں خطرناک ریلا؛ حکومت کی شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت
اسلام آباد: نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) نے ملک کے بڑے دریاؤں میں غیر معمولی سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 7 لاکھ 69 ہزار 481 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود ہے، جب کہ خانکی کے مقام پر 7 لاکھ 5 ہزار 225 کیوسک کا ریلا بہہ رہا ہے، تاہم اس مقام پر پانی کا بہاؤ بتدریج کم ہو رہا ہے۔
دریائے راوی میں بھی خطرناک صورتحال ہے۔ جسر کے مقام پر 2 لاکھ 2 ہزار 200 کیوسک کا اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، جو ممکنہ طور پر 2 لاکھ 29 ہزار 700 کیوسک تک بڑھ سکتا ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 72 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے قریبی نشیبی علاقے جیسے شاہدرہ، پارک ویو اور موٹروے ٹو سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اسی طرح دریائے ستلج میں بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ برقرار ہے، جب کہ سلیمانکی کے مقام پر 1 لاکھ 355 کیوسک کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے باعث وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی براہ راست نگرانی شروع کر دی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کو چوبیس گھنٹے کے لیے مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل یقینی بنایا جا سکے۔
حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گھروں میں ہنگامی صورتحال کے لیے خوراک، پانی، ادویات اور ضروری دستاویزات تیار رکھیں۔ مزید رہنمائی کے لیے NDMA کی ڈیزاسٹر الرٹ ایپ استعمال کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق حکومت اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ممکنہ نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔