مصنوعی ذہانت روزگار ختم نہیں، نئے مواقع پیدا کرے گی: شزہ فاطمہ

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی کا کیڈٹ کالج حسن ابدال میں خطاب، کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجیز سیکھنے اور مستقبل کی نوکریوں کے لیے تیار کرنے پر حکومت پرعزم ہے۔

0

اسلام آباد، : وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ملازمتیں ختم نہیں کرے گی بلکہ عالمی روزگار کے منظرنامے کو نئی شکل دے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجیز سیکھنے اور ان پر عبور حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مستقبل کی معیشت میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔

کیڈٹ کالج حسن ابدال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ اے آئی ملازمتوں کی جگہ لے لے گی بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارے نوجوان اس انقلاب کی قیادت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کالج کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کوڈنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت دی جائے گی جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انٹرن شپ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ وزارت آئی ٹی اسلام آباد ریجن کے تمام اسکولوں کو اگلے چھ ماہ کے اندر فائبر آپٹک ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سے منسلک کرے گی تاکہ ای کلاس رومز کو فعال بنایا جا سکے۔ انہوں نے اساتذہ کی تربیت پر بھی زور دیا تاکہ وہ ڈیٹا خواندگی اور اے آئی جیسے جدید آلات کے استعمال میں مہارت حاصل کر سکیں اور نئی نسل کو مستقبل کی ضرورتوں کے مطابق تیار کر سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد نوجوانوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ڈیجیٹل اکانومی میں اپنا کردار ادا کریں۔ گزشتہ سال ڈیجیٹل اسکلز پروگرام کے تحت ایک لاکھ طلبہ کو تربیت دی گئی جبکہ رواں سال یہ ہدف بڑھا کر 10 لاکھ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور یہی نوجوان ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی دو سمتوں میں جاری ہے: ایک طرف آئی ٹی انڈسٹری کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینا اور دوسری طرف گورننس کو ڈیجیٹل بنا کر شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانا۔ انہوں نے بتایا کہ ای آفس سسٹم کی بدولت سرکاری دفاتر میں فائلوں کے تعطل کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور اقوام متحدہ کے ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی میں 14 پوائنٹس کی بہتری آئی ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ڈیجیٹل شناختی نظام جلد شروع کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے صحت، تعلیم اور جائیداد کے ریکارڈ کو بھی شہری کی شناخت سے منسلک کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام شفافیت کو یقینی بنائے گا، نوکر شاہی رکاوٹوں کو کم کرے گا اور عوام کو آسان خدمات فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جو ہر شہری کی زندگی کو بدل دے گا، چاہے وہ فوجی ہو، ڈاکٹر، وکیل یا انجینئر۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.