آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس …پاکستان کے مستقبل کا نیا ویژن 2047

راولپنڈی میں منعقدہ اے آئی کانفرنس؛ ماہرین کا زور , سائبر سیکیورٹی، کلائمیٹ چینج اور ڈیجیٹل معیشت میں فوری اقدامات ناگزیر

0

راولپنڈی (مظفر علی بٹ) شالیمار ہوٹل راولپنڈی میں ایک اہم آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کا مقصد پاکستان کے لیے کلائمیٹ چینج، گڈ گورننس اور بزنس ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں سال 2047 تک کا مستقبل کا ویژن پیش کرنا تھا۔ اس کانفرنس کا انتظام ممتاز سیاسی و سماجی رہنما اور سابق سینیٹر میاں عتیق احمد نے کیا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جس نے ماحول کو حب الوطنی کے جذبات سے بھر دیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں میاں عتیق احمد، جنہیں ماضی میں "ڈیجیٹل سینیٹر” کا خطاب بھی مل چکا ہے، نے کہا کہ ترقی یافتہ دنیا میں تیز رفتار ترقی کا اصل سہارا اے آئی ہے، لہٰذا پاکستان کو فوری طور پر اپنے تعلیمی نظام اور قومی پالیسیوں میں اے آئی کو شامل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں تیل اور معدنی وسائل کے بجائے ڈیجیٹل وسائل اور اے آئی ٹیکنالوجی معاشی طاقت کی بنیاد ہوں گے۔ کلائمیٹ چینج کے حوالے سے اے آئی پر مبنی ماڈلز بارش، سیلاب اور خشک سالی کی پیشگوئی کر کے زراعت اور ڈیموں کی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ گڈ گورننس میں یہ ٹیکنالوجی شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کا باعث بنے گی، جبکہ تعلیم، صحت اور بزنس سیکٹر میں بھی انقلاب لا سکتی ہے۔

میاں عتیق احمد نے اپنے "ویژن 2047” میں پاکستان کو ایک ڈیجیٹل، خودکفیل اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت بنانے کے عملی اقدامات تجویز کیے اور کہا کہ اگر آج سے ہم نے اے آئی کو قومی ترجیحات میں شامل کر لیا تو اگلے 25 برسوں میں پاکستان ایک ڈیجیٹل پاور ہاؤس بن سکتا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے عمار جعفری نے زور دیا کہ پاکستان کو سب سے بڑے خطرات میں سے ایک سائبر حملوں کا سامنا ہے۔ اے آئی پر مبنی جدید سسٹمز کے ذریعے ایسے خودکار نظام قائم کیے جا سکتے ہیں جو مشکوک سرگرمیوں کو فوری شناخت کر سکیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں اب ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر رہی ہیں اور ان کے خلاف جنگ میں اے آئی پاکستان کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نادرا جیسے ادارے اگر ڈیٹا پروسیسنگ اور ویریفیکیشن سسٹمز میں اے آئی کو شامل کریں تو عوام کو زیادہ تیز، محفوظ اور شفاف سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو فوری طور پر اے آئی پر مبنی سائبر ڈیفنس سسٹم قائم کرنا ہوگا تاکہ وہ نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکے۔

دیگر ماہرین نے بھی کلائمیٹ چینج، گڈ گورننس، زراعت اور بزنس سیکٹر میں اے آئی کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ موسمی حالات کی بروقت پیشگوئی، پانی کے مؤثر استعمال، ای-گورننس کے ذریعے کرپشن پر قابو پانے، اور آٹومیشن کے ذریعے صنعتی ترقی پاکستان کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔

یہ کانفرنس اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ اگر پاکستان نے مستقبل میں دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونا ہے تو اسے فوری طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو اپنی قومی پالیسیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.