
تحریر: مریم تنویر
پاپولیشن کونسل کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی آبادی پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت تیزی سے بڑھ رہی ہے،ایک جانب بلوچستان کی آبادی کا تیزی سے بڑھنا اور دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیوں سے نہ صرف انسانی بلکہ جنگلی حیات بھی متاثر ہو رہی ہے صوبے میں موسمیاتی تغیرات سے زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور زمینداروں کو گزشتہ دو دہائیوں میں اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

امین اللہ کا تعلق ضلع مستونگ کی تحصیل کردگاپ سے ہے، جن کا خاندان نسل در نسل کاشتکاری کے شعبے سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق دو دہائی قبل تک یہاں زراعت کی صورتحال بہت بہتر تھی اور زیرِ زمین پانی کی سطح بھی مستحکم تھی، تاہم گزشتہ چند برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گندم اور پیاز کی فصلوں کی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے ماضی میں وہ اپنے ٹیوب ویلز کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین سے سالانہ 200 سے زائد بوریاں گندم اور سینکڑوں بوریاں پیاز مارکیٹ میں فروخت کرتے تھے، جس سے نہ صرف تمام اخراجات پورے ہوتے تھے بلکہ خاندان کی کفالت بھی باآسانی ہو جاتی تھی، مگر اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ انہیں اپنی ضرورت کے لیے بھی گندم خریدنی پڑتی ہے امین اللہ کے بقول بلوچستان میں زراعت کا دو تہائی انحصار زیرِ زمین پانی پر اور ایک تہائی بارشوں پر ہے، لیکن حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کے بدلتے ہوئے پیٹرن نے فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے انہوں نے کہا اب کاشتکاری کو چھوڑ کر محنت مزدوری کرنا پڑ رہا ہے
بلوچستان می موسمیاتی تبدیلی سے زمینداروں کے نقصانات کے حوالے سے حاجی عبدالرحمن بازئی جنرل سیکرٹری زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان سے بات کی ان کے مطابق 1997 سے اب تک زمینداروں کو 600 ارب روپے کا ناقابل تلافی مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے موسمیاتی تبدیلیوں، مسلسل خشک سالی اور 2022 کے تباہ کن سیلاب نے صوبے کی زراعت کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 5 لاکھ ٹن انگور کی فصل ضائع ہوئی اور گندم و پیاز جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں 45 فیصد تک بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔

غیر متوقع بارشوں اور بڑھتی ہوئی تپش سے نہ صرف پیداوار متاثر ہوئی بلکہ پھلوں کا ذائقہ اور معیار بھی تبدیل ہو رہا ہے، جو کہ ایک سنگین معاشی خطرہ ہے۔ ان حالات میں زمینداروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتی سطح پر جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں ڈرپ ایریگیشن کا فروغ، پانی کے ذخائر کی تعمیر اور کسانوں کو فوری امداد فراہم کرنا ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان کی زراعت کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔
ایگرونومسٹ و ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت کوئٹہ ڈاکٹر شبیر احمد نے موسمیاتی تبدیلیوں کی سب سے بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیا ہے۔ آبادی بڑھنے کی وجہ سے درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے جس سے ماحول تبدیل ہو رہا ہے۔ باغات اور درختوں کی کٹائی کے بعد وہاں فیکٹریاں لگائی جا رہی ہیں اور بعض علاقوں میں گھروں کی تعمیر کی جا رہی ہے جس سے فضائی آلودگی پھیل رہی ہے۔ ڈاکٹر شبیر کے مطابق ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف گرمی کی شدت محسوس کی جاتی ہے بلکہ درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ غیر متوقع بارشوں اور شدید گرمی کی وجہ سے فصلوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، بالخصوص پھلوں اور گندم کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انگور اور پیاز سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی ہے، جو کہ بلوچستان کے عوام کے لیے تشویشناک ہے۔ صوبے کی 70 فیصد آبادی زراعت اور لائیو اسٹاک سے وابستہ ہے، جہاں کم بارشوں اور خشک سالی سے لوگوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے۔

ڈاکٹر شبیر احمد کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں کی بے ترتیبی نے فصلوں کے حیاتیاتی دورانیے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ گندم، چاول اور مکئی جیسی اہم فصلوں میں دانہ بننے کا عمل متاثر ہو رہا ہے، جبکہ سبزیوں میں وقت سے پہلے پھول آنے (Bolting) اور پھلوں کے گرنے جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ شدید موسمی حالات، جیسے کہ ہیٹ ویوز، سیلاب اور ژالہ باری، نہ صرف کھڑی فصلوں کو تباہ کرتے ہیں بلکہ مٹی کی زرخیزی اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کا باعث بھی بن رہے ہیں، جس سے زراعت کی بنیاد ہی خطرے میں پڑ گئی ہے،
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زراعت کے لیے 10 سالہ حکمتِ عملی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ پہلے تین سالوں میں تحقیق اور آگاہی ہونی چاہیے، جس میں خشک سالی اور گرمی برداشت کرنے والے بیجوں کی تیاری اور جدید موسمی کیلنڈر کی تشکیل پر توجہ دی جائے۔ درمیانی مدت (4 تا 7 سال) میں جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرپ اریگیشن، لیزر لینڈ لیولنگ اور شمسی توانائی کے استعمال کو وسیع پیمانے پر رائج کیا جائے، جبکہ آخری مرحلے (8 تا 10 سال) تک پالیسیوں کے مکمل نفاذ سے ایک پائیدار اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زرعی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی بلوچستان کے لیے ایک سنگین بقائی چیلنج بن چکی ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی بارشوں، سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کی لہروں نے سماجی و اقتصادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صوبے کے 51 فیصد گھرانے آمدنی کی غربت اور 71 فیصد آبادی کثیرالابعاد غربت کا شکار ہے، جو ان ماحولیاتی آفات کے باعث مزید کمزور ہو رہے ہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک جامع کلائمٹ چینج پالیسی تشکیل دی ہے، جس کے تحت فوسل فیولز پر انحصار کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی (شمسی و ہوائی) اور ٹرانسپورٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، بین الاقوامی موسمیاتی فنانس تک رسائی کے لیے کاربن ٹریڈنگ اور ‘بلیو کاربن منصوبوں’ پر کام جاری ہے، تاکہ زرعی تحفظ اور پانی کے بہتر نظم و نسق کے ذریعے بلوچستان کو ایک پائیدار اور ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے