ملازمین کے اعزاز میں منعقدہ تعریفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، وزیرِ مملکت برائے وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر نے نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد کی کارکردگی کو “مثالی” قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہنر، پائیداری اور اختراع پر مبنی تعلیمی ماڈلز کو ملک بھر میں فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی جامعات خاموش مگر فیصلہ کن انداز میں قوم کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
تقریب میں اساتذہ، منتظمین، عملے اور یونیورسٹی قیادت نے سال 2025 کی نمایاں کامیابیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ نیشنل اسکلز یونیورسٹی کو ملک کی دوسری بہترین پائیدار وفاقی یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہوا، جو ماحولیاتی ذمہ داری اور روزگار پر مبنی تعلیم کے امتزاج کی ایک شاندار مثال ہے۔
تقریب کے دوران یونیورسٹی کی عالمی سطح پر منفرد شناخت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہونے کے ناطے جو یونیسکو-یونیووک سے وابستہ ہے، نیشنل اسکلز یونیورسٹی عالمی تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور مقامی ہنرمندی کی ضروریات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ یورپی سینٹر آف ووکیشنل ایکسی لینس کے طور پر اس کی شناخت بین الاقوامی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
سرمد تنویر کیمپس مریدکے کی تعمیر و توسیع کو بھی یونیورسٹی کے وژن کا اہم حصہ قرار دیا گیا، جس کا مقصد ہنر پر مبنی تعلیم کو دارالحکومت سے باہر کم ترقی یافتہ علاقوں تک پھیلانا ہے۔ اسی طرح نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن سے کوالیفیکیشن ایوارڈنگ باڈی کا درجہ ملنا یونیورسٹی کی صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ اسناد فراہم کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
طلبہ کی کامیابیوں کو سب سے اہم پیمانہ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2025 کی پہلی گریجویشن کلاس کے 133 طلبہ عملی میدان میں قدم رکھ چکے ہیں، جبکہ متعدد طلبہ نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف بھی حاصل کیے ہیں۔ مرکزی اور ذیلی کیمپسز میں طلبہ کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو ہنر پر مبنی تعلیم پر نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں 1200 سے زائد ہنر مند افراد کی مہارتوں کی جانچ کی گئی، جنہیں بعد ازاں سعودی عرب میں روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ یہ اقدام تکنیکی تعلیم کے ذریعے افرادی قوت کی عالمی منڈی تک رسائی اور ترسیلات زر کے فروغ کی عملی مثال ہے۔
بانی وائس چانسلر نے یونیورسٹی کی تمام کامیابیوں کو اساتذہ اور عملے کی مشترکہ محنت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ سنگ میل حتمی منزل نہیں بلکہ معیاری تعلیم، اختراع اور بین الاقوامی تعاون کے سفر کا تسلسل ہیں۔
تقریب کے اختتام پر تمام ملازمین میں تعریفی سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جو ادارے کی ترقی میں پسِ پردہ کردار ادا کرنے والوں کے لیے بامعنی اعتراف تھا۔
پاکستان کی پہلی وفاقی یونیورسٹی کے طور پر جو مکمل طور پر تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے وقف ہے، نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد آج مہارت پر مبنی تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کا ایک نمایاں مرکز بن چکی ہے، جو اس بات کی واضح مثال ہے کہ درست ترجیحات کے ساتھ پالیسی سازی قوم میں دیرپا مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔