
تحریر۔۔۔غلام مصطفیٰ بھٹی
راولپنڈی کے قلب میں واقع لیاقت باغ نہ صرف ایک سبزہ زار ہے بلکہ پاکستان کی سیاسی اور تاریخی منظر کشی کا ایک اہم ستون بھی ہے۔ یہ باغ عوامی اجتماعات، سیاسی جلسوں اور شہادتوں کا مرکز رہا ہے، جس نے ملکی تاریخ کے کئی اہم اور المیہ لمحات کو اپنے دامن میں محفوظ کر رکھا ہے۔لیاقت باغ کی بنیاد برطانوی دور میں رکھی گئی تھی اور اس وقت اسے کمپنی باغ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ باغ اس وقت کے شہری انتظامات اور تفریح کے مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا، اور یہ باغ راولپنڈی کی قدیم و مرکزی جگہوں میں شامل ہو گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس باغ کو پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم، شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
سیاسی اور تاریخی اہمیت
یہی وہ مقام ہے جہاں 16 اکتوبر 1951ء کو جمعہ کے دن پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو عوامی جلسے کے دوران شہید کر دیا گیا۔ اس سانحے نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ پیدا کیا۔ ان کے لبوں پر ادا ہونے والے آخری الفاظ “اللہ پاکستان کی حفاظت کرے” آج بھی قومی شعور میں زندہ ہیں۔
لیاقت باغ اس کے بعد بھی ملکی سیاست کا مرکز رہا۔ بڑے بڑے سیاسی اجتماع اور تاریخی تقاریر اسی زمین پر ہوئیں۔ 27 دسمبر 2007ء کو پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی اسی باغ سے متعلقہ عوامی اجتماع کے بعد ہوئی، جس نے پورے ملک کو غم و سوگ میں ڈبو دیا۔لیاقت باغ صرف ایک سبزہ زار نہیں، بلکہ قربانیوں اور نظریات کا مرکز ہے۔ یہاں ہونے والے جلسے اور مظاہرے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قیادت صرف عہدہ نہیں، بلکہ امانت ہوتی ہے، اور امانت کی حفاظت کے لیے اکثر جان کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ یہ باغ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قوموں کی تاریخ صرف فتوحات اور کامیابیوں سے نہیں بلکہ قربانیوں اور شہادتوں سے بھی لکھی جاتی ہے۔
نتیجہ اور آج کی اہمیت
آج لیاقت باغ ایک عوامی پارک کے طور پر آباد ہے، مگر یہ مقام تاریخی شعور کا مظہر اور قوم کی قربانیوں کا یادگار ہے۔ اس کی خاموش فضائیں ہمیں سوال کرتی ہیں کہ کیا ہم ان قربانیوں کے وارث بن سکے ہیں؟ کیا ہم ملک کی خدمت میں انہی اصولوں اور ایمان داری کے ساتھ کھڑے ہیں جو ہمارے رہنماؤں نے دکھائے؟
لیاقت باغ نہ صرف ایک باغ ہے، بلکہ ایک عہد، ایک سبق اور ایک مشعلِ راہ ہے جو ہمیں قربانی، وفا اور پاکستان سے بے لوث محبت کی یاد دلاتا رہتا ہے۔