پاکستان اور قازقستان نے تزویراتی شراکت داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سیاسی مکالمے، سلامتی و دفاع، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، تعلیم، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت، میڈیا، کھیل اور سیاحت، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون سمیت اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ، دونوں ممالک نے آئندہ برسوں کے دوران دو طرفہ باہمی تجارت کا حجم ایک ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
بدھ کو وزارت خارجہ کی طرف سے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مابین تزویراتی شراکت داری کے حوالے سے جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف نے 3 تا 4 فروری کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ 23 سال بعد قازقستان کے صدر کا پاکستان کا سرکاری دورہ ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو دونوں ممالک کے روایتی دوستانہ تعلقات کو تزویراتی شراکت داری کا مظہر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے باب کا آغاز ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مشترکات پر مبنی روایتی دوستانہ تعلقات اور بھائی چارے کے مسلسل فروغ کو سراہا۔
وسطی و جنوبی ایشیا اور اس سے آگے کے پورے خطے اور دو طرفہ تعلقات کے استحکام اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کثیر الجہتی دو طرفہ تعاون کو مزید متنوع اور فروغ دینے کے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک اور اقوام کے باہمی فائدے کے لئے تزویراتی شراکت داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس میں سیاسی مکالمے، سلامتی و دفاع، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، تعلیم، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت، میڈیا، کھیل اور سیاحت، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون سمیت اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے اور سربراہان مملکت و حکومت کی سطح پر باقاعدہ باہمی دورے منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ فریقین متفقہ تعاون کے شعبوں کا جائزہ لے سکیں اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لئے رہنمائی اور تعاون کے نئے راستے تلاش کر سکیں۔ دونوں رہنماؤں نے نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کی سطح پر ہر دو سال بعد تزویراتی مکالمے پر بھی اتفاق کیا تاکہ دو طرفہ تزویراتی شراکت داری کے تحت متفقہ تعاون کے شعبوں کے جامع جائزے اور نفاذ کے لئے تعاون کے میکانزم کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ پارلیمانی تبادلوں کی اہمیت کو باہمی اعتماد کے فروغ میں اہم قرار دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے ممالک کے اندر ہونے والے قانون سازی کے نظام اور پیشرفت کو بہتر طور پر سمجھنے اور تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کرنے پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں کو سالانہ اجلاس منعقد کرنے اور پارلیمانی دوستی گروپوں کے دائرہ کار کوبڑھایا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے باقاعدہ دو طرفہ سیاسی اور قونصلر مشاورت کی اہمیت پر زور دیا اور 26-2025 کے لئے دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے درمیان تعاون کے ایکشن پلان پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان کے قازقستان کے عوام کے لئے سازگار ویزا نظام کو سراہتے ہوئے دونوں فریقین نے پاکستان کو قازقستان کے ای ویزا نظام میں شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ سیاحت، عوام سے عوام اور کاروبار سے کاروباری روابط کو فروغ دیا جا سکے۔اعلامیہ کے مطابق سلامتی اور دفاع کے شعبہ میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں تمام زیر التواء تنازعات اور تمام حل نہ ہونے والے تنازعات کا پرامن حل یکطرفہ رویے کی بجائے پرامن ذرائع سے نکالا جائے، ان تنازعات کا حل وسطی اور جنوبی ایشیا بشمول قازقستان اور پاکستان کے درمیان تعاون اور رابطے کی بے پناہ صلاحیت کو حاصل کرنے کے لئے ایک محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔
دونوں رہنماؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرحدی تحفظ کے حکام اور دیگر متعلقہ قومی اداروں کے درمیان باقاعدہ اور منظم روابط قائم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دہشت گردی، انتہا پسندی، غیر قانونی منشیات کی سمگلنگ، انسانی سمگلنگ سمیت غیر قانونی ہجرت، منظم و سائبر جرائم نیز نئے اور ابھرتے ہوئے خطرات اور چیلنجز کے خلاف قریبی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جمہوریہ قازقستان کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم کے قومی سلامتی مشیر کی مشترکہ صدارت میں اعلیٰ سطحی سکیورٹی ڈائیلاگ قائم کرنے کے امکان پر غور کیا جائے۔ جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت میں جولائی 2025 کے لئے کثیرالفریقی، تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے فوجی میدان میں تعاون کی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا اور مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتوں، پیشہ وارانہ تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے تبادلے میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے جمہوریہ قازقستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان حوالگی پر معاہدے، قازقستان کی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان جرائم کے خلاف معاہدے، قازقستان کی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان اقوام متحدہ کے امن مشن میں مشترکہ تعیناتی پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ اقتصادی تعاون، تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری شراکت داری کی بنیادی اہمیت کو دہراتے ہوئے دونوں فریقین نے زراعت، ٹیکسٹائل، مشینری، مالیاتی شعبہ، کیمیکل صنعت، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، سرجیکل آلات، فرنیچر، کھیلوں کے سامان، چمڑے کی مصنوعات وغیرہ میں دو طرفہ تعاون کو تلاش اور وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے قازقستان-پاکستان مشترکہ بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون، اور تجارت و سرمایہ کاری کے مشترکہ ورکنگ گروپ کی باقاعدہ اور نتیجہ خیز ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ توانائی اور زراعت پر مشترکہ ورکنگ گروپس کے کامیاب آغاز کا اطمینان سے ذکر کیا۔ انہوں نے قازقستان-پاکستان بزنس کونسل کے اہم کردار کو اجاگر کیا کہ وہ باقاعدہ باہمی دورے، کاروباری فورمز، تجارتی مشن، نمائشیں بشمول دفاعی نمائشیں وغیرہ منعقد کر کے براہ راست کاروبار سے کاروباری تعلقات قائم کرنے اور سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دو طرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری کو فروغ دینے کے لئے دونوں رہنماؤں نے مذکورہ بالا ادارہ جاتی نظام کے دائرہ کار میں مشترکہ، باقاعدہ سرگرمیوں کو مزید شدت دینے کی انتہائی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے قازقستان اور پاکستان کے درمیان 27-2025 کے لئے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے روڈ میپ، الیکٹرانک تجارتی تعاون پر مفاہمت کی یادداشت اور معیاری کاری کے میدان میں تعاون کے معاہدے کے عملی نفاذ کو بہت اہمیت دی۔دونوں رہنماؤں نے قازقستان کی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان عبوری تجارت پر معاہدے، قازقستان کی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان کسٹمز کے معاملات میں تعاون اور باہمی انتظامی معاونت کا معاہدے، قازقستان کی ایجنسی برائے مالیاتی منڈی کے ضابطہ اور ترقی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے قازق انویسٹ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرکاری اور نجی شعبوں میں دو طرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے جس میں دونوں ممالک میں مشترکہ منصوبوں کے شراکت داروں کی شناخت بھی شامل ہے۔دونوں رہنماؤں نے آستانہ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے پلیٹ فارم پر مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کو سراہا جس میں مالیاتی خدمات بشمول اسلامی اور زرعی شعبہ ، مالیاتی ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل اثاثے اور کرپٹو کرنسیز، نیز بین الاقوامی ثالثی اور قانونی ضابطہ کاری شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی جانب سے پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی سراہا جن میں زراعت اور مویشی، آئی ٹی اور ٹیلی کام، کانیں و معدنیات، توانائی، صنعت، سیاحت اور نجکاری شامل ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے زراعت کے شعبے میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کی معیشتوں کے باہمی فائدے کے لئے خدمات انجام دینے کا خیرمقدم کیا جن میں قازقستان کی وزارت زراعت اور پاکستان کی وزارت قومی غذائی سلامتی و تحقیق کے درمیان پودوں کے قرنطینہ اور پودوں کے تحفظ کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ، قازقستان کی وزارت زراعت اور پاکستان کی وزارت قومی غذائی سلامتی و تحقیق کے درمیان ویٹرنری میڈیسن کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ، قازقستان کے سائنسی تحقیقی ادارے برائے زراعت و فصل پیداوار اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے درمیان زرعی فصلوں کے عمومی وسائل کے تبادلے کے لئے مفاہمت کی یادداشت کے علاوہ قازقستان کے جے ایس سی "ایگریکلچرل ایکسپیریمنٹل سٹیشن آف کاٹن اینڈ میلن اگاوان”اور پاکستان سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی ) کے درمیان کپاس کی تحقیق و ترقی میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت شامل ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے قازقستان اور پاکستان کے درمیان ترقی یافتہ، محفوظ، پائیدار اور متنوع کنکٹیویٹی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دو طرفہ اور علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ دونوں ممالک نہ صرف وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے خطے کے لئے بلکہ بین البراعظمیٰ رابطے اور تعاون کے فائدے کے لئے راستے فراہم کرنے سے آگے بھی، جن میں یوریشیا، خلیج فارس، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک شامل ہیں، عبوری مراکز کے طور پر اہم ہیں ۔ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے قازقستانی اور پاکستانی لاجسٹکس کمپنیوں کے درمیان قریبی تعاون بڑھانے کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانے اور دونوں ممالک کے درمیان سڑک، ریل اور فضائی رابطے کو فروغ دینا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے قازقستان اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی کثیر الجہتی ٹرانسپورٹ کوریڈورز کو "قازقستان-ترکمانستان-افغانستان-پاکستان”، "قازقستان-ازبکستان-افغانستان-پاکستان” اور "قازقستان-کرغزستان-چین-پاکستان” راستوں کے ذریعے فروغ دینے کے لئے مضبوط عزم کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر قاسم جومارت توکایوف کی جانب سے وسطی اور جنوبی ایشیا کو ٹرانس افغان ریلوے کوریڈور کی تعمیر کے ذریعے جوڑنے میں پہل کا خیرمقدم کیا۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ "قازقستان-ترکمانستان-افغانستان-پاکستان” ریلوے لائن کی ترقی کا جائزہ لیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور متنوع بنانے کے لئے، کاروبار سے کاروبار اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے کے لئے، دونوں رہنماؤں نے مستقبل قریب میں براہ راست پروازوں کے دوبارہ آغاز کے امکان پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے سمندری نقل و حمل کے میدان میں تعاون کی بڑی صلاحیت کو اجاگر کیا اور جے ایس سی نیشنل کمپنی "اکتاؤ انٹرنیشنل کمرشل سی پورٹ” اور کراچی پورٹ میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کے درمیان معلومات کے تبادلے اور پیشہ ورانہ ترقی کے میدان میں تعاون کے میمورنڈم پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے جے ایس سی "کاز پوسٹ” اور پاکستان پوسٹ کے درمیان تعاون کے یادداشت پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا۔اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تعلیم، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی اور آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشنز اور تعلیم پر مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام کا خیرمقدم کیا۔دونوں رہنماؤں نے متعلقہ حکام، تنظیموں، یونیورسٹیوں اور سکولوں کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کو بہت اہمیت دی تاکہ مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے جن میں تعلیمی شراکت داری اور طلباء، فیکلٹی ممبران، علم اور بہترین طریقوں کا تبادلہ شامل ہیں۔ صدر قاسم جومارت توکایوف نے پاکستان کے شہریوں کو قازق یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے قازقستان سے آنے والے طلبہ کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے خوش آمدید کہا۔
دونوں رہنماؤں نے قائد اعظم یونیورسٹی آف پاکستان میں الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے تعاون سے الفارابی کلچرل سینٹر کے افتتاح ، پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں قازق نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ یونیورسٹی کے ساتھ تعاون سے ستبایوف سینٹر کے افتتاح جس کا نام کے آئی ساتبایوف کے نام سے منسوب ہے، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں جو احمد یاساوی انٹرنیشنل قازق-ترک یونیورسٹی کے تعاون سے احمد یساوی سینٹر کے افتتاح کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کو طبی اور دیگر شعبوں میں تخصص کیلئے ایک دوسرے کے ممالک میں اپنی ضروریات کے مطابق شاخیں کھولنے کی ترغیب دی۔ دونوں رہنماؤں نے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں تعاون اور تجربے و مہارت کے تبادلے کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تاکہ حکومت، ای کامرس، مالیاتی ٹیکنالوجیز، ای انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، ای سروسز، خلائی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل حل وغیرہ جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے تیار کئے جا سکیں۔
دونوں فریقین نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے ذرائع تلاش کرنے اور جغرافیائی معلومات کے میدان میں تجربے اور مہارت کے تبادلے کے ذریعے تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے قازقستان کی وزارت مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی اور پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت، قازقستان کی جے ایس سی "نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجیز” اور پاکستان کی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کا خیرمقدم کیا۔اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے ثقافتی اداروں اور میڈیا برادریوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ عوامی تعلقات کو گہرا کیا جا سکے اور موجودہ سیاسی و اقتصادی ترقی، کاروباری مواقع، سماجی و ثقافتی روایات اور قازقستان و پاکستان کی روایات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔
اس تناظر میں دونوں رہنماؤں نے قازقستان کی وزارت ثقافت و اطلاعات اور پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے درمیان معلومات کے میدان میں مفاہمت کی یادداشت،قازقستان کی وزارت ثقافت و اطلاعات اور پاکستان کی وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے درمیان ثقافت کے میدان میں مفاہمت کی یادداشت، قازقستان کی وزارت ثقافت و اطلاعات اور پاکستان کی وزارت ورثہ و ثقافت کے درمیان ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کے میدان میں 2026-2027 کے لئے تعاون کے ایکشن پلان، اور کرمانغازی قازق نیشنل کنزرویٹری اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس آف پاکستان کے درمیان تعاون کی یادداشت، خبر نیشنل ٹیلی ویژن ایجنسی اور پاکستان ٹی وی کے درمیان مفاہمتی یادداشت،قازقستان کے صدر کے ٹی وی اور ریڈیو کمپلیکس اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور نفاذ کو خاص اہمیت دی۔
دونوں رہنماؤں نے قازقستان اور پاکستان کے درمیان عوامی روابط کے فروغ کے لئے کھیلوں اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جمہوریہ قازقستان کی وزارتِ سیاحت و کھیل اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے درمیان کھیل اور سیاحت کے شعبوں میں طے پانے والے مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد کو خصوصی اہمیت دی۔دونوں رہنماؤں نے مختلف کھیلوں کی فیڈریشنز کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسلام آباد میں دوستق سپورٹس سینٹر، قازقستان شطرنج فیڈریشن کی شاخوں، اور “قازق باتیری” مکسڈ مارشل آرٹس اکیڈمی کے قیام، نیز پاکستان میں “توغیز قومالاق” اور “قازق کُریس” فیڈریشنز کے قیام کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مقامی حکام کی سطح پر دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے ثقافتی دارالحکومتوں ترکستان اور لاہور، نیز ٹیکسٹائل مراکز شمقند اور فیصل آباد کے مابین سسٹر سٹی تعلقات کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی مسائل اور وسطی و جنوبی ایشیا کے بلند پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے پیدا ہونے والی مشترکہ مسائل کے حوالے سے جمہوریہ قازقستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی لچک کو اپنی سٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے اس شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے آبی تحفظ، قابلِ تجدید توانائی، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، اور پائیدار پہاڑی ماحولیاتی نظام سے متعلق مشترکہ تحقیق، علم کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا یہ شراکت داری سرحد پار موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی یکجہتی کو فروغ دے گی اور اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی، پیرس معاہدے اور اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق عالمی موسمیاتی اقدامات کی حمایت کرے گی۔
اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی اور پیرس معاہدے کے اصولوں اور شقوں کے مطابق عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کوششوں میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے اور ماحول کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئےدونوں رہنماؤں نے جمہوریہ قازقستان کی وزارتِ ماحولیات و قدرتی وسائل اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے درمیان موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔دونوں رہنماؤں نے جمہوریہ قازقستان کے صدر کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی میں 22 اپریل کو ’’عالمی یومِ ارض سرسبز‘‘ قرار دینے کی تجویز کی حمایت کی۔دونوں رہنماؤں نے 2026 میں قازقستان میں علاقائی ماحولیاتی سربراہی اجلاس کے انعقاد کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے مربوط حل تیار کئے جا سکیں اور موسمیاتی و ماحولیاتی مسائل پر علاقائی و عالمی مکالمے کو تقویت دی جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے قازقستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ’’اقوامِ متحدہ بین الاقوامی آبی تنظیم‘‘ کے قیام کے اقدام کی بھی حمایت کی، جو پانی سے متعلق امور پر کام کرنے والی دیگر تنظیموں کے اختیارات کو یکجا کر سکے گی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی جانب سے شروع کئے گئے ’’کراس ریجنل گلیشیئر ریزیلینس انیشی ایٹو‘‘ کی بھی حمایت کی، جس کا مقصد علم اور بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ اور گلیشیئرز کے تحفظ و بقا ءکے لئے خطہ جاتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطحی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، شنگھائی تعاون تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی و علاقائی اداروں کے فریم ورک کے تحت روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔صدر قاسم جومارت توکایووف نے قازقستان کی بین الاقوامی تجاویز، مثلاً ایشیا میں اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس، کی حمایت اور عالمی و روایتی مذاہب کے رہنماؤں کی کانگریس جیسے اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے اہم ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کے 2030ء ایجنڈا برائے پائیدار ترقی کے مؤثر نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور غربت کے خاتمے، غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، نقصانات و تباہی، تخفیف اور قدرتی آفات کے خطرات میں کمی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔بین الاقوامی اور علاقائی امور پر دونوں فریقین کے مؤقف میں ہم آہنگی کو نوٹ کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی اداروں اور تنظیموں میں ایک دوسرے کی تجاویز، مؤقف اور نامزدگیوں کی حمایت کے امکانات پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا اور تمام فریقوں کی جانب سے ضبط و تحمل اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لئے جموں و کشمیر تنازعہ کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پرامن حل ناگزیر ہے، اور بین الاقوامی قانون کے تسلیم شدہ اصولوں اور ضابطوں کی سختی سے پاسداری پر بھی زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں استحکام اور سلامتی، علاقائی تعاون کے مزید فروغ کے لئے ایک اہم شرط ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کےلئے استعمال نہیں ہونی چاہئے،اس تناظر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان کو علاقائی معاشی تعاون اور رابطہ جاتی انفراسٹرکچر منصوبوں میں شامل کرنا افغانستان اور خطے کے عوام کے لئے مفید ثابت ہوگا۔
دونوں رہنماؤں نے بین المذاہب، ثقافتی اور بین النسلی ہم آہنگی، باہمی احترام اور مذہبی رواداری کے فروغ پر اتفاق کیا، جبکہ اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی کوششوں اور مسلمان ممالک کے مابین یکجہتی کے فروغ کی حمایت کا اعادہ کیا۔جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی عوام کا پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ صدر قاسم جومارت توکایووف نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو موزوں وقت پر قازقستان کے دورے کی دعوت دی، جسے وزیرِ اعظم نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا۔