بیجنگ: چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کے مطابق پاکستان کی جانب سے چین کو بیس میٹل سے بنے اوزار، آلات، کٹلری اور متعلقہ اشیا کی برآمدات 2025 میں مسلسل بڑھتی رہیں اور 8.14 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 2024 میں 7.76 ملین ڈالر تھیں۔ اس طرح سال بہ سال بنیاد پر تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق ہینڈ ٹولز برآمدی فہرست میں سرفہرست رہے، جن میں پلاس، چمٹے، ٹوئیزر اور اسی نوعیت کے دیگر اوزار نمایاں تھے۔ ان اشیا کی برآمدات 2024 میں 2.97 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 3.72 ملین ڈالر ہو گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ صوبہ زی جیانگ سے مضبوط طلب رہی، جو سب سے بڑی منڈی کے طور پر سامنے آیا، جہاں درآمد شدہ مواد کے ساتھ پروسیسنگ کے تحت 1.78 ملین ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ یہ امر چین کی مینوفیکچرنگ سپلائی چین میں پاکستان کے انضمام کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے بعد شنگھائی اور گوانگ ڈونگ کا نمبر رہا، جہاں عام اور پروسیسنگ ٹریڈ دونوں چینلز کے ذریعے برآمدات ہوئیں۔
قینچی اور شیئرز دوسرے نمبر پر رہیں، جن کی 2025 میں برآمدات تقریباً 1.90 ملین ڈالر رہیں، جبکہ زیادہ تر کھیپیں شنگھائی اور زی جیانگ بھیجی گئیں۔ چین اکنامک نیٹ کے مطابق سیفٹی ریزر بلیڈز تیسرے نمبر پر رہے، جن سے تقریباً 1.34 ملین ڈالر کمائے گئے، اور یہ زیادہ تر سنکیانگ اور زی جیانگ کو فراہم کیے گئے۔
پاکستانی برآمدکنندہ فیصل شہزاد نے چین اکنامک نیٹ کو بتایا کہ وزیرآباد کی کٹلری صنعت اپنے عوام کی مہارت اور حوصلے کی عکاس ہے، جہاں روایتی طریقوں کو جدید جدت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چینی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے اور متعلقہ صنعتوں کو وزیرآباد منتقل کیا جائے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی مسابقتی قیمتیں، بہتر ہوتے معیار اور ہنرمند دھات سازی کا مضبوط شعبہ چین کی صنعتی اور صارف منڈیوں میں مستقل طلب کو سہارا دے رہا ہے۔ گہرے تجارتی اور پیداواری تعاون کے ساتھ توقع ہے کہ چین کو پاکستان کے بیس میٹل اوزاروں کی برآمدات مستحکم رفتار سے بڑھتی رہیں گی۔