مہمند: تحصیل صافی قنداری کے مشران کا گھڑئی ماربل پر کام بند کرنے کا مطالبہ

0

مہمند: تحصیل صافی قنداری کے رہائشیوں آزاد کور کے قومی مشران نے گھڑئی ماربل معدنیات پر کام فوری طور پر بند کرنے اور قومی تنازعہ حل ہونے تک سپلائی روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار حاجی گلا خان، حاجی ظاہر شاہ، حاجی نور باچا، کتاب حاجی، ملک وارث خان، شیر افضل، سید گلاب، زین شاہ، افضل خان اور حضرت مولا نے جمعے کے روز مہمند پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مشران کا کہنا تھا کہ متعلقہ پہاڑ تین اقوام، آزاد کور، ولی کور اور بیزاد کور کی مشترکہ ملکیت ہے، اور پہاڑ میں موجود معدنی وسائل پر پورے علاقے اور تمام اقوام کا برابر حق ہے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاحال اس پہاڑ کی قومی سطح پر منصفانہ تقسیم عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
پریس کانفرنس میں مقررین زین شاہ اور شیر محمد سمیت دیگر مشران نے کہا کہ سیفی قنداری کا اس پہاڑ سے متعلق تنازعہ گزشتہ پچیس برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک پہاڑ کی منصفانہ اور متفقہ تقسیم نہیں کی جاتی، اس پر ہر قسم کی کان کنی اور دیگر سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں، بصورت دیگر علاقے میں بڑے پیمانے پر خون خرابے کا خدشہ موجود ہے۔
مشران نے لیز ہولڈر انور شاہ سے مطالبہ کیا کہ پہاڑ کی قومی سطح پر تقسیم کے بغیر کسی بھی قسم کا کام شروع نہ کیا جائے، کیونکہ بغیر تقسیم کے کام جاری رکھنے سے مزید پیچیدہ مسائل جنم لیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چند مخصوص ٹولے پورے پہاڑ پر ناجائز دعویٰ کر رہے ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں، کیونکہ یہ پہاڑ تمام اقوام کی مشترکہ ملکیت ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران مشران نے واضح کیا کہ تمام اقوام اس مسئلے کا پُرامن، منصفانہ اور دیرپا حل چاہتی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی بدنظمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس تنازعے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر عائد ہوگی۔
آخر میں مشران نے ضلعی انتظامیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے اور پہاڑ کی منصفانہ تقسیم تک ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.