زرعی ترقی کے لیے اسمارٹ فارمنگ اور قابلِ تجدید توانائی ناگزیر قرار

0

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں "جدید پائیدار زراعت کے لیے رینیوایبل انرجی کے استعمالات” کے عنوان سے ایک بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ورکشاپ فیکلٹی آف ایگری کلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ انرجی سسٹمز انجینئرنگ کے زیرِ اہتمام معنقد ہوئی، جس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین، اساتذہ، محققین اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد پائیدار زراعت کے فروغ میں رینیوایبل انرجی کے کردار، نئی ٹیکنالوجیز اور عالمی تحقیقی تعاون کی اہمیت کو اُجاگر کرنا تھا۔ تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی محترمہ یاسمین پراچہ، ڈائریکٹر ڈی اے اے ڈی اسلام آباد تھیں۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بارانی یونیورسٹی ہمیشہ سے ٹیکنالوجی، پائیداری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے موجودہ زرعی چیلنجز کے حل میں صفِ اول پر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن نئی نسل کے ایسے ماہرین تیار کرنا ہے جو پاکستان کی زراعت کو رینیوایبل انرجی اور اسمارٹ فارمنگ کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ بین الاقوامی ورکشاپس علم و تحقیق کے تبادلے کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں۔

مہمانِ خصوصی محترمہ یاسمین پراچہ نے اپنے خطاب میں یونیورسٹی کی رینیوایبل انرجی کی تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لیے فعال کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی علمی روابط اور استعداد بڑھانے کے پروگرامز نوجوان انجینئرز اور سائنس دانوں کو عملی تجربات و مشاہدات سے آراستہ کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رینیوایبل انرجی کی طرف منتقلی صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ زرعی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار خوراک کی پیداوار اس بات پر منحصر ہے کہ ہم رینیوایبل انرجی ٹیکنالوجیز کو اپنے زرعی نظام میں کس قدر مؤثر طور پر شامل کرتے ہیں۔

ورکشاپ میں مختلف ملکی و غیرملکی جامعات اور تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے سیرحاصل علمی و تحقیقی مقالے پیش کیے۔ مقررین نے شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام، بائیو گیس و بایوماس کے استعمال، توانائی کی بچت والے گرین ہاؤس سسٹمز اور پریسیژن ایگریکلچر میں اسمارٹ انرجی مینجمنٹ جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ رینیوایبل انرجی اور غذائی تحفظ کے درمیان گہرا تعلق ہے۔

ورکشاپ کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے مہمانِ خصوصی اور دیگر مقررین کو یادگاری شیلڈز اور سووینئرز پیش کیے۔ تقریب میں ڈینز، ڈائریکٹرز، فیکلٹی ممبران، محققین اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جو یونیورسٹی کی پائیدار زراعت کے فروغ کے عزم اور علمی وابستگی کا مظہر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.