گندم کی فصل کی بیماریاں اور ان کا تدارک

0
(زرعی فیچر سروس، نظامت اعلیٰ زرعی اطلاعات پنجاب میڈ یا لائزان یونٹ راولپنڈی)
گندم ہمارے ملک کی ایک اہم فصل اور ہماری خوراک کا اہم حصہ ہے۔ موجودہ سال گندم کی فصل صوبہ پنجاب میں 1 کروڑ62 لاکھ 50 ہزار ایکڑ رقبہ پر کاشت ہوئی ہے جو اپنی بڑھوتری کے مراحل سے گزر رہی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو مستقل بنیاد پر پورا کرنے کیلئے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ گندم کی بہتر پیداوار میں زمین کی تیاری، اچھے بیج و قسم کا انتخاب، متوازن کھاد، بروقت کاشت اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کے ساتھ ساتھ گندم کی بیماریوں کے انسداد کی بھی بہت اہمیت ہے۔ گندم کی فصل پر حملہ آور ہونے والی بیماریاں اور ان کا علاج حسب ذیل ہے۔
گندم کا اکھیڑا:  اس بیماری کا فصل پرپہلا حملہ پود کی حالت میں اور دوسرا حملہ جوان پودوں پر ہوتا ہے۔ پہلی صورت میں روئیدگی بہت کم ہوتی ہے۔ گندم کے اکھیڑے کا دوسرا حملہ متوقع طور پر مارچ کے آخر میں ہوتا ہے۔ اس وقت متاثرہ پودے مرتے نہیں لیکن بالیاں یا تو بالکل دانوں سے محروم ہو جاتی ہیں یا دانے چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ اس بیماری کے ممکنہ حملہ سے بچنے کے لئے فصل کے خس و خاشاک اکٹھے کر کے تلف کر دیں۔تندرست بیج استعمال کریں، قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں۔ بیج کو پھپھوندی کش زہریں لگائیں، جہاں بیماری کا خطرہ ہو وہاں بوائی قدرے پچھیتی کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ خشک زمین میں تخم پوشی کر کے فوراً پانی لگانے سے بیماری کم ہو جاتی ہے۔
گندم کی ممنی: اس بیماری کے حملہ سے متاثرہ پتے چڑ مڑ ہو جاتے ہیں اور رنگ قدرے زرد پڑ جاتا ہے۔ پودے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے، دانوں کی جگہ قدرے سیاہ رنگ کے گول گول بیج بن جاتے ہیں جسے ممنی کہتے ہیں۔ بیج کو ممنی کے دانوں سے پاک کر لینے سے اس بیماری سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے، بیج کا چھاننی سے چھان کر ممنی سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ نمک کے 2 فیصد محلول میں بیج بھگو دیں ممنی کے دانے ہلکے ہونے کی وجہ سے تیرنے لگتے ہیں اور اس طرح انہیں بآسانی علیحدہ کیاجا سکتاہے۔
کرنال بنٹ: پودے کے چند شگوفے بیمار ہوتے ہیں جب کہ بقیہ چند سٹے اور ہر سٹے میں چند دانے بیماری کے حملہ کا شکار ہوتے ہیں۔ بیماری کا حملہ سٹے نمودار ہونے پر ہوتا ہے۔ بیج کا کچھ حصہ پھپھوندی سے متاثر ہوتا ہے اور باقی حصہ محفوظ رہتا ہے۔
گندم کی سفوفی پھپھوندی: یہ بیماری گندم کے زمین کے اوپر والے تمام حصوں پر حملہ آور ہوتی ہے لیکن عام طور پر پتوں کے اوپر والی سطح پر سفوفی دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ پتے کا حملہ شدہ حصہ دوسری طرف سے بھورا یا گہرے بھورے رنگ کا ہوتا ہے، بیماری کا حملہ شروع موسم میں ہو جائے تو نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ دانے چڑ مڑ ہو کر باریک رہ جاتے ہیں اور پیداوار میں کمی ہو جاتی ہے۔
Leave A Reply

Your email address will not be published.