پانچواں تاشقند انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فورم 16 سے 19 جون 2026 تک منعقد ہوگا۔
اس سال کا موضوع “سرمایہ کاری میں استحکام: نئی سرحدیں، نئی شراکتیں” رکھا گیا ہے، جس کے تحت یہ اہم سوالات زیر بحث آئیں گے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کو کیسے محفوظ رکھا جائے، ابھرتی منڈیوں میں کون سے ادارہ جاتی نظام سرمایہ کاری کو مضبوط بناتے ہیں، اور نئی شراکت داری کے راستے کہاں ہیں۔
فورم کا پس منظر مضبوط معاشی اشاریوں پر مبنی ہے۔ نیشنل اسٹیٹسٹکس کمیٹی کے مطابق ازبکستان کی معیشت نے 2025 میں 7.7 فیصد ترقی کی اور جی ڈی پی 147 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2021 کے بعد سب سے تیز رفتار اور یورپ و وسطی ایشیا میں نمایاں شرح ہے۔
فچ ریٹنگز اور ایس اینڈ پی گلوبل نے ملک کی خودمختار ریٹنگ کو پہلی بار BB– سے بڑھا کر BB کر دیا، جبکہ موڈیز نے اپنے آؤٹ لک کو “مثبت” قرار دیا۔ مرکزی بینک کے مطابق زرِ مبادلہ کے ذخائر 77 ارب ڈالر سے زائد ہیں، برآمدات 24 فیصد اضافے کے ساتھ 33.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 46.9 فیصد اضافہ ہوا۔
2017 میں جہاں سالانہ غیر ملکی سرمایہ کاری صرف 4 ارب ڈالر تھی، وہ 2025 تک بڑھ کر 42 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو ملک کے سرمایہ کاری کے منظرنامے میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
فورم بھی معیشت کے ساتھ ساتھ وسعت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ سال اس میں 8 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں 97 ممالک سے 3 ہزار بین الاقوامی مندوبین شامل تھے۔ اس موقع پر 30.5 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے طے پائے۔ تاہم اب اصل توجہ اس بات پر ہے کہ کتنے معاہدے عملی منصوبوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔
اس سال فورم کا مرکزی نکتہ تاشقند انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (TIFC) ہوگا، جو مارچ 2026 میں صدارتی حکم کے تحت قائم کیا گیا۔ اس میں کامن لا اصولوں پر مبنی خصوصی قانونی نظام، مالیاتی ریگولیٹر، ثالثی مرکز اور 2076 تک ٹیکس چھوٹ شامل ہے۔ اس کا مقصد عالمی سرمایہ کاروں کو ایک مستحکم اور قابلِ پیشگوئی ماحول فراہم کرنا ہے۔
فورم کے پروگرام کو چار اہم موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے:
سرمایہ کاری کا تحفظ، مالیاتی ڈھانچہ اور سرمایہ مارکیٹ کی ترقی، تجارتی روابط و لاجسٹکس، اور توانائی کی منتقلی و موسمیاتی فنانس۔
اہم سیشنز میں متبادل سرمایہ کاری فنڈز، مڈل کوریڈور لاجسٹکس، وسطی ایشیا کی خودمختار ریٹنگز، اور جدید مالیاتی طریقوں پر ورکشاپس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ثالثی اور تنازعات کے حل پر خصوصی سیشنز بھی ہوں گے۔
توانائی کے شعبے میں ازبکستان نے 2030 تک بجلی کی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 54 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت 4 گیگاواٹ سے زائد شمسی و ہوا سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ مزید 19 گیگاواٹ کے منصوبے زیر غور ہیں۔
فورم میں جنوبی کوریا، امریکہ، ترکی، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ بزنس فورمز بھی شامل ہوں گے، جبکہ ایک بڑی نمائش بھی منعقد کی جائے گی جس میں صنعتی و سرمایہ کاری مواقع پیش کیے جائیں گے۔
اگرچہ یہ فورم مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے کارپوریٹ گورننس میں بہتری، نجکاری کے عمل کی رفتار، اور شفافیت کے عالمی معیار کو پورا کرنا۔
نیٹ ورکنگ کے لیے خصوصی تقریبات، کاروباری نشستیں اور غیر رسمی سرگرمیاں بھی رکھی گئی ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو باہمی روابط بڑھانے کا موقع مل سکے۔
ماہرین کے مطابق تاشقند انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فورم اب صرف نمائشی تقریب نہیں رہا بلکہ یہ سرمایہ کاری پالیسی کا ایک عملی ذریعہ بن چکا ہے، جس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنی سرمایہ کاری حقیقت میں معیشت میں شامل ہوتی ہے۔