وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان دنیا میں امن کے علمبردار کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان نے سفارتی اور بیانیہ کے محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ہفتہ کو یہاں مقامی ہوٹل میں “Talking Narratives .. Marka e Haq” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیانیہ اور عسکری سطح پر پاکستان کی عزت، وقار اور منفرد مقام مزید مستحکم ہوا ہے، جہاں پاکستانی پاسپورٹ اور سبز ہلالی پرچم کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، آج دنیا بھر میں لوگ پاکستان کے ساتھ وابستگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحد کے اُس پار تاریکی، تنہائی، ناکامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں، ہم سنتے تھے کہ انہوں نے دنیا بھر میں بڑی لابنگ کرلی ہے اور غیر معمولی اہمیت حاصل کرنے جا رہے ہیں مگر ہمارے جے ٹین سی طیاروں اور فتح میزائل نے دشمن کی نام نہاد چمک دمک کو راکھ میں بدل دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان روشن اور باوقار مقام پر کھڑا ہے جبکہ مشرقی جانب خاموشی اور تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ معرکۂ حق متعدد محاذوں پر لڑا گیا۔ جب وزیراعظم شہباز شریف نے پی ایم اے کاکول میں دنیا کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا کہ پہلگام واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا اور اس کی شفاف و منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں تو اس کا کوئی جواب نہیں آیا اور جواب آنا بھی نہیں تھا کیونکہ یہ واقعہ ایسے بھونڈے انداز میں انجام دیا گیا کہ محض دس منٹ کے اندر اس کی ایف آئی آر درج کر دی گئی، جس سے پورا معاملہ ایک مذاق بن کر رہ گیا۔
اس کے باوجود پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پہلگام واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نشانہ بننے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مشرقی سرحد کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تو درکنار، کبھی تشویش کا اظہار بھی نہیں کیا گیا اور یہی بنیادی فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب پاکستان کی ریاست ہے جو دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے جبکہ پاکستان کا ہر طبقہ اس جنگ میں قربانیاں دے رہا ہے۔
فوج، افسران و جوان، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب اس جدوجہد میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ پوری دنیا کے سامنے ہے جبکہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ بھی سب کے علم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہر طبقہ قربانیاں دے رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایک ایسا ملک ہے جس کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کبھی ہم کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرتے ہیں اور کبھی ابھی نندن پکڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اندر اتنی بردباری اور وقار ہے کہ جب ان کا پائلٹ ہماری تحویل میں آیا تو ہم نے اسے چائے پلائی اور عزت و احترام کے ساتھ واپس کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اور ہوتا تو وہ واپس جا کر ایوارڈ نہ لیتا۔
یہ عجیب قوم ہے، ان کا جہاز گرا، ہم نے ان کے پائلٹ کو چائی پلائی اور بحفاظت واپس کیا اور واپس جا کر وہ ایوارڈ بھی لے رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہی بنیادی فرق ہے کہ بھارت دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے جبکہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا واقعہ دنیا کے سامنے ہے۔ سکھوں کے خلاف کارروائیاں صرف بھارت کے مشرقی پنجاب تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ تک پھیل چکے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ معرکۂ حق میں سفارتی محاذ پر کامیابی کے بعد پاکستان بیانیے کے محاذ پر بھی سرخرو ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر اطلاعات جب سی این این، بی بی سی، سکائی نیوز، الجزیرہ، ٹی آر ٹی سمیت عالمی میڈیا پر پاکستان کا موقف پیش کر رہے تھے تو یہ ٹیم ورک کا حصہ تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے بہترین ماحول پیدا کیا اور موثر حکمت عملی اختیار کی، اسی ٹیم ورک کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف سفارتی جنگ میں کامیابی حاصل کی بلکہ بیانیہ کی جنگ میں بھی برتری حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جنگ کے دوران بہترین کردار ادا کیا۔ جب بھی معرکۂ حق کی تاریخ لکھی جائے گی تو جنریشن زی، سوشل میڈیا انفلوئنسرز، سوشل میڈیا صارفین اور ان کی خدمات سنہری حروف میں درج کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب سخت نوعیت کی روایتی جنگ جاری تھی جبکہ دوسری جانب میم وار بھی چل رہی تھی۔ بھارت میں قوم اس بات پر پریشان تھی کہ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے جنگ جیسے سنجیدہ ماحول میں بھی ہمارے دعوئوں کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں ہماری نوجوان نسل نے بھارتی میڈیا کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا بیانیہ اس قدر جھوٹ پر مبنی تھا کہ انہوں نے لاہور اور ملتان جیسے لینڈ لاک شہروں کی بندرگاہیں تک تباہ کرنے کے دعوے بھی کیے ، ان کے اینکرز اور ٹی وی شخصیات نے پاکستان کو غیر ارادی طور پر بھرپور مزاحیہ مواد فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ چیلنج سامنے آیا کہ بھارت نے پاکستان کے یوٹیوب چینلز بند کر دیے ہیں تو سوال اٹھا کہ کیا ہم بھی یہی اقدام کریں۔ تاہم میڈیا حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ ایسا نہیں کیا جائے گا کیونکہ جنگی ماحول میں بھی کچھ گنجائش رہنی چاہیے تاہم ہم نے ایک اقدام ضرور کیا اور اپنے ملی نغمے، قومی اور جنگی ترانے بھارتی یوٹیوب چینلز پر چلا کر اپنا مؤقف دنیا کے سامنے پہنچایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی بڑی عزت رکھی جبکہ ہماری نوجوان نسل، جنریشن زی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے قابلِ ستائش کردار ادا کیا۔
ان کی کاوشوں نے نہ صرف پوری قوم بلکہ افواجِ پاکستان کے حوصلے بلند کیے۔ ہم سنتے تھے کہ 1965 کی جنگ میں میڈم نور جہاں نے ملی نغموں سے قوم کو متحرک کیا اور جوانوں و افسروں کا مورال بلند کیا تھا۔ اس مرتبہ بھی جوش اور جذبہ موجود تھا تاہم اس کے ساتھ ہماری جنریشن زی کی سوشل میڈیا حکمت عملی نے بھی قومی جذبے، افواج کے حوصلے اور ملک کے عزم کو مضبوط بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قومیں اسی طرح بنتی ہیں۔ وزیراعظم کا وژن، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنگی حکمت عملی اور جس جرات کے ساتھ قیادت کی گئی، وہ دنیا کی جنگی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حملہ ہوا تو پاکستان نے دشمن کے آٹھ جہاز مار گرائے۔
انہوں نے کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور ان کی ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے ملک کا دفاع کیا جبکہ پاکستان نیوی بھی مکمل طور پر تیار تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمرل نوید اشرف نے بھی اہداف لاک کر رکھے تھے تاکہ اگر خدانخواستہ پاکستان پر کوئی جارحیت ہوتی تو اس کا مؤثر جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنا دفاع کیا بلکہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے تحت 10 مئی کو بھرپور جواب دیا تو بھارت کے فوجی ترجمان کے چہرے اترے ہوئے تھے جو گزشتہ کئی روز سے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں رہائشی کمپلیکس پر بمباری سے ایک معصوم بچہ شہید ہوا جبکہ بہاولپور اور مریدکے میں بھی ہمارے بچے اور شہری شہید ہوئے۔ دوسری جانب بھارت کی طرف سے مسلسل اشتعال انگیز بیانات دیئے جاتے رہے۔ پاکستانی فوج کی کارروائی کے بعد یہی عناصر چند گھنٹوں کے اندر گھٹنے ٹیک کر جنگ بندی کی بات کرنے لگے۔ وہی ٹی وی اسکرینیں تھیں اور وہی چہرے تھے، مگر اعتماد ختم ہو چکا تھا۔ پاکستان کے فیصلہ کن جواب کو وہ چار گھنٹے بھی برداشت نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس رات دنیا نے دیکھا کہ جب انہوں نے پاکستان پر حملہ کیا تو بعد ازاں ان کے جہازوں کا ملبہ بلڈوزر کے ذریعے اٹھا کر لے جایا جا رہا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے رات کی تاریکی میں جواب نہیں دیا بلکہ فجر کے وقت نماز ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے کارروائی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ جب فتح میزائل اپنے اہداف کی طرف گئے تو انہوں نے فتح کی نوید سنائی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے اور پوری قوم آج فتح کا جشن منا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی اتحاد و اتفاق میں پاکستان کی اصل طاقت ہے، ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے تمام سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور صحافیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی اور پاکستان کے بیانیے کو تقویت دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ بیانیے کی جنگ اکیلے لڑی جا سکتی ہے تو یہ درست نہیں، یہ مکمل طور پر ایک ٹیم ورک تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور ایک سال میں ملک کو جو عزت ملی ہے وہ مزید بڑھے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ پاکستان ترقی کرے، پھلے پھولے اور آنے والی نسلوں کو وہ ملک ملے جس کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا اور جسے قائداعظم محمد علی جناح نے عملی تعبیر دی۔