یورپی یونین کے تعاون سے پاکستان ویمن لیڈرز پراجیکٹ نے مینٹورشپ پروگرام کا آغاز کر دیا

0

یورپی یونین کے تعاون سے پاکستان ویمن لیڈرز پراجیکٹ نے مستقبل کی خواتین سیاسی رہنماؤں کے لیے مینٹورشپ پروگرام کا آغاز کر دیا

اسلام آباد، 14 جولائی 2026: یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری پاکستان ویمن لیڈرز منصوبہ، جسے اقوام متحدہ کی خواتین (UN Women) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) مشترکہ طور پر، جبکہ ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی (TDEA) کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے، نے آج اسلام آباد میں اپنے فلیگ شپ مینٹورشپ پروگرام "Leading the Future: Empowering Women Through Mentorship in Political Leadership” کا آغاز کر دیا۔
اس پروگرام کا مقصد قیادت کو مضبوط بنانا اور ابھرتی ہوئی خواتین رہنماؤں کے لیے سیاسی اور عوامی زندگی میں بامعنی شرکت کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں اراکین پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، ویمن پارلیمنٹری کاکس کے ارکان، سول سوسائٹی تنظیمیں، ماہرین تعلیم، میڈیا نمائندگان، وکلا، خواتین کاروباری شخصیات، معذور افراد، ٹرانس کمیونٹی کے نمائندگان اور نوجوان رہنما شامل تھے۔ اس موقع پر شرکاء نے خیالات کا تبادلہ کیا اور پاکستان میں خواتین کی سیاسی قیادت اور شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں، اقوام متحدہ کی خواتین (UN Women) کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ، مس فہمیدہ اقبال نے کہا:
“ہم پاکستان کے جمہوری مستقبل میں ایک سوچ سمجھ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کی بنیاد اس یقین پر ہے کہ قیادت صرف پیدا نہیں ہوتی بلکہ مواقع، اعتماد اور نسلوں کے درمیان شراکت داری کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ اس مینٹورشپ پروگرام کے ذریعے ہم پاکستان کے 57 اضلاع سے 1,700 سے زائد ابھرتی ہوئی خواتین رہنماؤں تک پہنچیں گے، جہاں لیڈرشپ بوٹ کیمپس کے ذریعے انہیں علم، اعتماد اور مضبوط نیٹ ورکس فراہم کیے جائیں گے۔ ان میں سے 170 نمایاں خواتین رہنما ایک جامع مینٹورشپ سفر کا آغاز کریں گی، جس میں انہیں تجربہ کار خواتین رہنماؤں کی رہنمائی حاصل ہوگی۔”

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے پاکستان میں وفد کے قائم مقام سربراہ برائے تعاون، ڈاکٹر سیبسٹین لوریون نے خواتین کی برابری اور شمولیتی طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے یورپی یونین کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا:
“سیاست میں خواتین کی مساوی شرکت مضبوط جمہوریت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پاکستان ویمن لیڈرز منصوبے کے ذریعے یورپی یونین آئندہ نسل کی خواتین رہنماؤں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں، نیٹ ورکس وسیع کر سکیں اور فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ لے سکیں۔”

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹی ڈی ای اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد فیاض نے کہا:
“یہ مینٹورشپ پروگرام پاکستان میں خواتین رہنماؤں کی آئندہ نسل میں سرمایہ کاری ہے۔ چونکہ خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، اس لیے فیصلہ سازی میں ان کی متناسب نمائندگی اور عوامی پالیسی سازی میں ان کا فعال کردار نہایت ضروری ہے۔ مضبوط جمہوریت ان کی فعال قیادت، نمائندگی اور اثر و رسوخ پر منحصر ہے۔”

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جینڈر اینڈ سوشل انکلوژن کی ڈائریکٹر جنرل، مس نگہت صدیقہ نے ادارہ جاتی معاونت اور مینٹورشپ کے ذریعے خواتین کی سیاسی قیادت کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:
“ہمیں ایسی خواتین کی نسل تیار کرنی ہے جو اداروں کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس پروگرام کا خیرمقدم کرتا ہے کیونکہ یہ رسمی حقوق اور عملی شرکت کے درمیان اہم خلا کو پُر کرتا ہے۔ منظم مینٹورشپ، تربیت، نیٹ ورکس اور ادارہ جاتی روابط کے ذریعے یہ پروگرام سیاسی خواہش کو عملی تیاری میں اور تیاری کو عوامی قیادت میں تبدیل کر سکتا ہے۔”

تقریب میں پاکستان ویمن لیڈرز مینٹورشپ پروگرام کے لیے نامزدگیوں کا باقاعدہ آغاز بھی کیا گیا۔ اس اقدام کے تحت نوجوان خواتین، لوکل کونسلرز، سیاسی کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو شامل کیا جائے گا، جبکہ خاص توجہ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین پر دی جائے گی، جن میں اقلیتیں، معذور خواتین اور دیہی علاقوں کی خواتین شامل ہیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کی سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کہا:
“میں اس پروگرام میں شامل نوجوان خواتین سے کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کی آواز، آپ کے خیالات اور آپ کی قیادت نہایت اہم ہیں۔ پاکستان کو آپ کی توانائی، جدت اور عوامی خدمت کے جذبے کی ضرورت ہے۔ قیادت کسی عہدے کا نام نہیں بلکہ مقصد، دیانتداری اور خدمت کے جذبے کا نام ہے۔”

پاکستان ویمن لیڈرز منصوبہ خواتین کی سیاسی شرکت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہا ہے، جس میں مینٹورشپ، صلاحیتوں کی ترقی، قانون سازی اور پالیسی اصلاحات، اور سیاسی و سماجی شراکت داروں کے ساتھ تعاون شامل ہے، تاکہ پاکستان میں ایک زیادہ منصفانہ اور شمولیتی سیاسی ماحول قائم کیا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.