اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP)پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی (MoCC) کے اشتراک سے منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں پاکستان کی ماحولیاتی صورتحال سے متعلق تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں جبکہ اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوانوں کے لئے قومی ماحولیاتی صورتحال رپورٹ کا خصوصی ایڈیشن تیار کیا جائے گا، تاکہ قومی ماحولیاتی پالیسی سازی میں نوجوانوں کی آواز کو باضابطہ طور پر شامل کیا جا سکے۔اجلاس کا مقصد نوجوانوں سے تجاویز اور آراءحاصل کرنا تھا، جو آئندہ شائع ہونے والی اس خصوصی رپورٹ کا حصہ بنیں گی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کی آخری قومی ماحولیاتی صورتحال رپورٹ 2016 میں شائع ہوئی تھی، جس میں نوجوانوں کےلئے کوئی الگ باب یا خصوصی ایڈیشن شامل نہیں تھا۔اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو اور ماحولیاتی پائیداری و سرکلر اکانومی شعبے کی سربراہ زینب نعیم نے کہا کہ نوجوانوں سے حاصل ہونے والی آراءکو براہِ راست قومی رپورٹ کے خصوصی یوتھ ایڈیشن میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں نوجوانوں کو ماحولیاتی پالیسی سازی کے عمل میں خاطر خواہ نمائندگی نہیں مل سکی تاہم اب اس خلا کو پر کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ نئی نسل قومی فیصلوں میں موثر کردار ادا کر سکے۔ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ نیلم پری نے اجلاس کے شرکاءکو رپورٹ کے ابتدائی نتائج سے آگاہ کیا جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ڈی پی ایس آئی آر (DPSIR) فریم ورک کے تحت مرتب کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ کار کے ذریعے ماحولیاتی مسائل کے بنیادی سماجی و معاشی اسباب، ان سے پیدا ہونے والے دباو ¿، موجودہ صورتحال، عوام پر مرتب ہونے والے اثرات اور حکومتی ردِعمل کا جامع جائزہ لیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں پاکستان کی فضائی آلودگی کو سب سے سنگین مسائل میں شمار کیا گیا ہے۔نیلم پری نے عالمی تحقیقی مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی کے باعث پاکستان میں اوسطاً ہر شہری کی متوقع عمر میں 3.4 سے 3.9 سال تک کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فضائی آلودگی کے اثرات سب سے زیادہ شدید ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر پاکستان کی موجودہ قومی صاف ہوا پالیسی پر مو ¿ثر انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو 2030 تک PM2.5 کے اخراج میں 36 سے 38 فیصد اور 2050 تک تقریباً 80 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کے علاوہ پانی کے وسائل، زراعت، ماحولیاتی صحت، قدرتی آفات کے خطرات، طرزِ حکمرانی، احتساب اور ملک بھر میں درج ماحولیاتی خلاف ورزیوں سمیت بارہ اہم شعبوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ صوبوں میں ماحولیاتی اعداد و شمار کی دستیابی یکساں نہیں جس کے باعث پنجاب سے نسبتاً زیادہ معلومات حاصل ہو سکیں کیونکہ وہاں کے ماحولیاتی تحفظ کے اداروں (EPAs) کے پاس دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ دستیاب تھا۔رپورٹ میں ماحولیاتی قوانین پر کمزور عمل درآمد، نگرانی کے ناقص نظام اور مالی وسائل کی کمی کو اہم پالیسی خامیوں کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے مختصر اور طویل المدتی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، گرین کلائمیٹ فنڈ سمیت بین الاقوامی موسمیاتی مالی وسائل تک آسان رسائی، صنعتی علاقوں کے قریب لازمی ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا قیام، سنگل یوز پلاسٹک کے مرحلہ وار خاتمے، ماحول دوست متبادل اشیا کے فروغ، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی نظام اور صاف توانائی میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔تکنیکی بریفنگ کے بعد شرکاءکو چار موضوعاتی ورکنگ گروپس میں تقسیم کیا گیا۔مشاورتی اجلاس میں ماہرینِ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین، سول سوسائٹی کے نمائندوں، اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاءمیں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔