کچنار پارک میں آئی ڈبلیو ایم آئی کا رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبہ

0

انٹرویو : ڈاکٹر محسن حفیظ

Strategic Program Director, International Water Management Institute (IWMI)

Journalist

انٹرویو: شکیلہ جلیل

shakila.jalil01@gmail.com

پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے، مگر پاکستان میں جس بےدردی سے زیرِ زمین پانی نکالا جا رہا ہے، اس کے باعث پانی کی سطح میں کمی ایک فطری نتیجہ بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارشوں کے باوجود ملک میں پانی کی قلت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور یہ مسئلہ ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے International Water Management Institute (IWMI) نے پاکستان میں رین واٹر ہارویسٹنگ کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا پائلٹ سیٹ اپ اسلام آباد کے کچنار پارک میں قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد بارش کے پانی کو محفوظ کر کے زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرنا ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف پانی کے ضیاع کو روکنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے ایک مؤثر حل بھی فراہم کر سکتا ہے۔ اس کے ذریعے شہری علاقوں میں پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

 اس منصوبے کے فوائد اور اس کے عملی اثرات کو جاننے کے لیے ہم نے Strategic Program Director، ڈاکٹرمحسن حفیظ سے خصوصی گفتگو کی، جس کے اہم نکات قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

 اس منصوبے کے فوائد اور اس کے عملی اثرات کو جاننے کے لیے ہم نے Strategic Program Director، ڈاکٹرمحسن حفیظ سے خصوصی گفتگو کی، جس کے اہم نکات قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان پیج: اسلام آباد کو نسبتاً زیادہ بارشوں والا شہر سمجھا جاتا ہے، اس کے باوجود یہاں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کیوں گر رہی ہے؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: اسلام آباد میں اوسطاً سالانہ تقریباً 1,500 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، جبکہ بعض برسوں میں یہ 700 ملی میٹر سے لے کر 2,200 ملی میٹر تک بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مسئلہ بارش کی کمی نہیں بلکہ اس پانی کو محفوظ نہ کرنا ہے۔ 1990 کی دہائی میں شہر کا تقریباً 75 فیصد حصہ غیر شہری تھا، اس لیے بارش کا زیادہ تر پانی قدرتی طور پر زمین میں جذب ہو جاتا تھا۔ لیکن آبادی، سڑکوں اور کنکریٹ کی تعمیرات بڑھنے سے یہ قدرتی نظام متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں 2020 تک زیرِ زمین پانی کی سطح اوسطاً 1.3 میٹر سالانہ گرنے لگی۔

 اس منصوبے کے فوائد اور اس کے عملی اثرات کو جاننے کے لیے ہم نے Strategic Program Director، ڈاکٹرمحسن حفیظ سے خصوصی گفتگو کی، جس کے اہم نکات قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان پیج: اس مسئلے کے حل کے لیے آپ نے کیا اقدامات کیے؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: برطانیہ حکومت، واٹر ایڈ، پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (PCRWR) اور انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے ہم نے اسلام آباد کی ایک جامع ہائیڈرولوجیکل اسیسمنٹ کی۔ اس تحقیق کا مقصد ایسے مقامات کی نشاندہی کرنا تھا جہاں بارش کے پانی کو محفوظ کرکے زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کیا جا سکے۔

پاکستان پیج: کچنار پارک (F-9 Park) کو ہی اس منصوبے کے لیے کیوں منتخب کیا گیا؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: مون سون کے دوران پریڈ گراؤنڈ اور اطراف سے آنے والا پانی کچنار پارک میں جمع ہو کر اکثر سیلابی صورتحال پیدا کر دیتا تھا۔ ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہاں کا آبی ذخیرہ (Aquifer) بھی ری چارجنگ کے لیے موزوں ہے۔ اسی لیے ہم نے یہاں تقریباً 80 فٹ × 30 فٹ کا ایک مصنوعی تالاب اور ویئر اسٹرکچر تعمیر کیا تاکہ بارش کے پانی کو کچھ دیر محفوظ رکھا جائے اور پھر قدرتی انداز میں زمین میں جذب کیا جا سکے۔

پاکستان پیج: اس منصوبے میں کون سی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: ہم نے تین اہم آلات نصب کیے۔ پہلا ریئل ٹائم رین گیج، جو بارش کی مقدار ریکارڈ کرتا ہے۔ دوسرا ایسا آلہ جو زمین میں جذب ہونے والے پانی کی مقدار ناپتا ہے، جبکہ تیسرا CTD Diver ہے جو زیرِ زمین پانی کی مقدار اور معیار دونوں کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ اس سے پہلی بار ہمیں اندازوں کے بجائے شواہد پر مبنی ڈیٹا حاصل ہوا۔

 اس منصوبے کے فوائد اور اس کے عملی اثرات کو جاننے کے لیے ہم نے Strategic Program Director، ڈاکٹرمحسن حفیظ سے خصوصی گفتگو کی، جس کے اہم نکات قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان پیج: چار سال میں اس منصوبے کے کیا نتائج سامنے آئے؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: جون 2022 سے جون 2026 تک صرف ایک ری چارج سائٹ کے ذریعے تقریباً 5 لاکھ 66 ہزار لیٹر بارش کا پانی زمین میں محفوظ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں مقامی سطح پر زیرِ زمین پانی کی سطح تقریباً 4.5 میٹر بلند ہوئی، پانی کا معیار بہتر ہوا اور بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسائل میں بھی واضح کمی آئی۔

پاکستان پیج: اس منصوبے سے مقامی آبادی کو کیا فائدہ پہنچا؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: مقامی لوگوں نے ہمیں بتایا کہ پہلے بارشوں میں ان کے علاقے زیرِ آب آ جاتے تھے، لیکن اب صورتحال کافی بہتر ہے۔ اس کے علاوہ جو بور اور ٹیوب ویل خشک ہو چکے تھے، ان میں دوبارہ پانی آنا شروع ہو گیا۔ اگرچہ سی ڈی اے روزانہ محدود وقت کے لیے پانی فراہم کرتا ہے، لیکن اب لوگ اپنے ذاتی بورز سے اوسطاً 45 منٹ اضافی پانی حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان پیج: کیا اس ماڈل کو شہر کے دیگر علاقوں میں بھی اپنایا گیا؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: جی ہاں۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد سی ڈی اے نے پہلے 100 اور پھر مزید 100 گراؤنڈ واٹر ری چارج سائٹس قائم کیں۔ اس وقت اسلام آباد میں تقریباً 200 سائٹس فعال ہیں، جو زیرِ زمین پانی کی بحالی کے ساتھ ساتھ نالہ لئی میں سیلابی پانی کے دباؤ کو بھی کم کر رہی ہیں۔

پاکستان پیج: کیا اس منصوبے نے حکومتی پالیسیوں پر بھی اثر ڈالا؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: بالکل۔ سی ڈی اے نے اپنے بلڈنگ بائی لاز میں ترمیم کرتے ہوئے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے زیرِ زمین پانی کی دستیابی کا جائزہ لازمی قرار دیا۔ بعد ازاں پاکستان انجینئرنگ کونسل، PCRWR اور دیگر اداروں نے گرین بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا، جس کے تحت نئی عمارتوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم شامل کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ 2025 میں وزیراعظم پاکستان نے اس کوڈ کی ملک گیر منظوری بھی دے دی۔

پاکستان پیج: اس منصوبے پر کتنی لاگت آئی اور کیا یہ معاشی طور پر مؤثر ثابت ہوا؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: اس پائلٹ منصوبے پر تقریباً 15 ہزار امریکی ڈالر خرچ ہوئے، جس میں تعمیراتی کام، آلات اور نگرانی شامل تھی۔ اتنی کم لاگت میں حاصل ہونے والے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ بڑے بجٹ کے بغیر بھی مؤثر آبی منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔

پاکستان پیج: کیا یہی ماڈل پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی قابلِ عمل ہے؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: بالکل۔ یہ ماڈل صرف اسلام آباد تک محدود نہیں۔ اگر لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، کراچی اور دیگر شہروں میں بھی بارش کے پانی کو منظم طریقے سے محفوظ کیا جائے تو زیرِ زمین پانی کے ذخائر بحال کیے جا سکتے ہیں، شہری سیلاب کم ہو سکتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان پیج:آپ اس حوالے سے کوئی پیغام دینا چاہیں گے ؟

ڈاکٹر محسن حفیظ: "پانی کا بحران صرف نئے ڈیم بنا کر حل نہیں ہوگا۔ ہمیں بارش کے ہر قطرے کو ضائع ہونے سے بچانا ہوگا۔ اگر حکومت، شہری ادارے، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور عوام مل کر رین واٹر ہارویسٹنگ کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنا لیں تو پاکستان آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔”

Leave A Reply

Your email address will not be published.