درخت: بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے خلاف ہماری پہلی دفاعی دیوار

0

تحریر: محمد ارشاد رامے

اس سا ل ملک بھر، خصوصاً اسلام آباد، شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت نہ صرف انسانی صحت بلکہ پانی، زراعت، جنگلی حیات اور مجموعی ماحول کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بدلتے موسم کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ اس کا ایک سادہ مگر مؤثر جواب ہے: زیادہ سے زیادہ درخت۔

درخت قدرت کے وہ خاموش محافظ ہیں جو ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں، آکسیجن فراہم کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرتے ہیں، فضائی آلودگی کو گھٹاتے ہیں اور بارشوں کے قدرتی نظام کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں درخت زیادہ ہوں، وہاں درجۂ حرارت نسبتاً کم، ہوا صاف اور زندگی زیادہ خوشگوار ہوتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ، بے ہنگم تعمیرات اور درختوں کی بے دریغ کٹائی نے ہمارے شہروں کو "کنکریٹ کے جنگل” میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمی کی شدت ہر سال نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔

اس صورتحال میں صرف حکومت پر ذمہ داری ڈال دینا کافی نہیں۔ ہر شہری کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ گھروں، دفاتر، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر درخت لگانا، موجودہ درختوں کی حفاظت کرنا، غیر ضروری کٹائی کی مخالفت کرنا اور شجرکاری کی مہمات میں حصہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح سرکاری اداروں، مقامی حکومتوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو بھی بڑے پیمانے پر شہری جنگلات (Urban Forests) کے فروغ اور سبز علاقوں کے تحفظ کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

درخت صرف ماحول کی زینت نہیں بلکہ ہماری بقا کی ضمانت ہیں۔ اگر ہم واقعی بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی درخت لگانے اور ان کی حفاظت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.