پناہ کا فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے فوری نفاذ کا مطالبہ

0

 پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) نے عوامی صحت کے ماہرین، صحافیوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور میڈیا سے وابستہ افراد کے ہمراہ حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات (UPPs) پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کے نفاذ کے عمل کو فوری طور پر تیز کیا جائے، تاکہ صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور عوام کو صحت مند غذائی انتخاب کرنے میں مدد ملے۔

پناہ نے مطالبہ کیا کہ ایسے الٹرا پروسیسڈ غذائی و مشروبات کی مصنوعات پر اردو زبان میں سیاہ آکٹاگون (آٹھ کونوں) کی شکل کے واضح وارننگ لیبلز لازمی قرار دیے جائیں، جو عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی جانب سے تجویز کردہ مقررہ حد سے زیادہ چینی، سوڈیم اور سیر شدہ چکنائی پر مشتمل ہوں، یا جن میں نان شوگر سویٹنرز (مصنوعی/غیر چینی مٹھاس پیدا کرنے والے اجزاء) شامل ہوں۔ یہ لیبلز پاکستان کے مقامی حالات اور کم خواندگی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سادہ، واضح اور نمایاں ہونے چاہئیں۔

فوڈ اینڈ نیوٹریشن پالیسی کے ماہر، منور حسین نے کہا:

’’پاکستان میں غذائی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور صارفین بالخصوص بچے اور نوجوان پروسیسڈ اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ صارفین کو ایسے واضح، سادہ اور نمایاں وارننگ لیبلز کی ضرورت ہے جو انہیں ان مصنوعات کی شناخت میں مدد دیں جن میں صحت کے لیے تشویش کا باعث بننے والے غذائی اجزاء اور اجزا زیادہ مقدار میں موجود ہوں۔ صارفین کے تحفظ کے لیے مضبوط اور شواہد پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے، نہ کہ تمام تر ذمہ داری صرف افراد پر ڈال دی جائے۔‘‘

وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ہدایات کے بعد وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کو شواہد پر مبنی ایک تجویز پہلے ہی ارسال کر رکھی ہے۔ یہ تجویز گزشتہ دو سال سے PSQCA کی تکنیکی کمیٹیوں میں زیرِ غور ہے۔

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے جنرل سیکریٹری، ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ
’’لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہر گزرتا دن مزید صارفین، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کو ایسی غیر صحت بخش الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات کے سامنے لا رہا ہے جن پر ان کے انتخاب کی رہنمائی کے لیے واضح اور سادہ معلومات موجود نہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:

’’یہ مصنوعات پاکستان میں غذائی عادات سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ حکومت کو عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مزید تاخیر کی وجہ سے عوامی صحت متاثر نہ ہو۔ ہم اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتے جب تک قابلِ روک تھام بیماریوں اور اموات میں مزید اضافہ ہوتا رہے۔‘‘

ورکشاپ میں شریک ماہرین اور دیگر شرکاء نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) سے مطالبہ کیا کہ لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کے نفاذ کے عمل کو فوری طور پر تیز کیا جائے۔ شرکاء نے زور دیا کہ اس سلسلے میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے تجویز کردہ نیوٹرینٹ پروفائل ماڈلز اور وفاقی وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کی جانب سے جمع کرائی گئی شواہد پر مبنی تجویز کو بنیاد بنایا جائے۔

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) اور ورکشاپ میں شریک میڈیا سے وابستہ افراد نے عوام میں صحت مند غذائی انتخاب کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور ایسی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا جو پاکستان کے عوام کے لیے صحت مند اور محفوظ غذائی ماحول کو فروغ دیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.