کراچی میں ماہواری کی صحت و حقوق پر پہلی قومی کانفرنس

0

پاکستان میں ماہواری کی صحت، خواتین کے وقار اور حقوق کے حوالے سے پہلی قومی کانفرنس کراچی کے ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (MiTE) میں منعقد ہوئی، جس میں پالیسی سازوں، طبی ماہرین، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور ترقیاتی شعبے کے نمائندوں سمیت 150 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

کانفرنس کا موضوع ’’آگاہی سے عملی اقدامات تک: ماہواری کی صحت، وقار اور انصاف کا فروغ‘‘ تھا۔ اس کا انعقاد ادارہ تعلیم و آگاہی (ITA)، آہنگ، انسٹی ٹیوٹ فار سوشل اینڈ یوتھ ڈیولپمنٹ (ISYD) اور مینسٹرول ہیلتھ ایڈووکیسی اینڈ ایکشن نیٹ ورک (MHAAN) نے مشترکہ طور پر کیا۔ کانفرنس کو فوس فیمینسٹا اور فرانسیسی ترقیاتی ادارے (AFD) کی مالی معاونت حاصل تھی۔ یہ ساتویں انٹرایکٹو یوتھ فورم برائے پالیسی، عملی اقدامات اور نوجوانوں کی قیادت کے تحت بھی منعقد کی گئی۔

کانفرنس کے پہلے پینل میں ماہواری کی صحت کو عوامی صحت اور بنیادی حقوق کے مسئلے کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔ اس موقع پر جینڈر انٹرایکٹو الائنس، ایمبریس، آہنگ، کنیکٹ ہئیر اور سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے نمائندوں نے پالیسی سازی، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور خواتین کے حقوق کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔

عوامی صحت کے ماہر ڈاکٹر طالب لاشاری نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ ماہواری کی صحت کو قومی صحت کے نظام میں شامل کرنے، اس حوالے سے قومی رہنما اصول مرتب کرنے اور ادارہ جاتی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

گرین اسٹار سوشل مارکیٹنگ کے جنرل منیجر پروگرامز اینڈ نیو بزنس ڈیولپمنٹ فواد شمیم نے کہا کہ نجی شعبہ سماجی تبدیلی کے فروغ اور ملک بھر میں ماہواری سے متعلق مصنوعات اور خدمات تک رسائی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسرے پینل کا عنوان ’’ہمارے جسم، ہمارے حقوق: عملی اقدامات میں نوجوانوں کا کردار‘‘ تھا، جس میں نوجوانوں کے نمائندوں، پیریڈ پرائیڈ فیلوز اور سماجی تبدیلی کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں نے اپنے تجربات اور اقدامات پیش کیے۔ شرکاء نے معاشرتی سطح پر آگاہی، باہمی تعلیم اور ماہواری سے متعلق سماجی بدنامی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔

پیریڈ پرائیڈ فیلوز نے اپنے مینسٹرول ہیلتھ ایکشن پلانز (MHAPs) بھی پیش کیے، جن کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں کی قیادت میں شروع کیے گئے اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔

کانفرنس میں کہانیوں کے ذریعے اظہار خیال کے ایک خصوصی سیشن اور آزاد بینڈ کے ارکان کی لائیو موسیقی نے بھی شرکاء کی توجہ حاصل کی۔ اس سرگرمی کا مقصد یہ پیغام اجاگر کرنا تھا کہ ماہواری کی صحت صرف طبی یا صفائی کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی وقار، بنیادی حقوق اور اجتماعی ذمہ داری سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

کانفرنس کا موضوع ’’آگاہی سے عملی اقدامات تک: ماہواری کی صحت، وقار اور انصاف کا فروغ‘‘ تھا۔

تقریب کی مہمانانِ اعزاز رکن صوبائی اسمبلی سندھ ڈاکٹر فوزیہ حمید اور سابق صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود شمیم ممتاز نے ماہواری کی صحت اور خواتین کے وقار کے فروغ کے لیے صوبائی سطح پر تعاون کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے پالیسی سازوں، متعلقہ اداروں اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کو سراہا۔

ایم آئی ٹی ای کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی نے کانفرنس کے انعقاد کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے سماجی انصاف اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کی میزبانی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اختتامی خطاب میں ادارہ تعلیم و آگاہی کے پروگرام منیجر جوشوا دلاور نے تمام شراکت دار اداروں، بشمول آہنگ، آئی ایس وائی ڈی، ایمبریس، یو این ایف پی اے، کنیکٹ ہئیر، سب رنگ سوسائٹی اور ایم ایچ اے اے این کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حکومت سندھ کے نمائندوں کے تعاون اور ایم آئی ٹی ای کی میزبانی کو بھی سراہا۔

انہوں نے فوس فیمینسٹا اور فرانسیسی ترقیاتی ادارے (AFD) کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے سانگ پور سانگ (Sang Pour Sang) منصوبے کے تحت ادارہ تعلیم و آگاہی کو مالی معاونت فراہم کی، جس سے اس قومی کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوا۔

جوشوا دلاور نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ کانفرنس کے پیغام کو آگے بڑھاتے ہوئے محض آگاہی تک محدود نہ رہیں بلکہ ماہواری کی صحت، وقار اور حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل اور مشترکہ عملی اقدامات کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.