چین کا ابھار عالمی سیاست میں استحکام کا باعث ہے، ماہرین کا مؤقف
انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز میں کتاب "چائنا کی گلوبلائزیشن اور نیا عالمی نظام" کی تقریبِ رونمائی
سلام آباد: منگل کو انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کی جانب سے منعقدہ تقریب میں اسکالرز اور خارجہ پالیسی کے ماہرین نے چین کے ابھرتے ہوئے عالمی کردار کو بین الاقوامی سیاست میں استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے بیجنگ کے عالمی نظام کی تشکیل میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو باریک بینی سے سمجھنے پر زور دیا۔
تقریب کا انعقاد نئی کتاب "China’s Globalisation and the New World Order” کی رونمائی کے لیے کیا گیا، جسے ڈاکٹر آدم سعود اور ڈاکٹر نجمدین بکرے نے مرتب کیا اور پالمگریو مکملن نے حالیہ دنوں میں شائع کیا ہے۔
کتاب میں چین کے علاقائی اور عالمی رویے پر مختلف مگر تجزیاتی نظریات پیش کیے گئے ہیں، جن میں اس کے سفارتی، سیاسی، اور اقتصادی اثرات کو عالمی تناظر میں جانچا گیا ہے۔
تحریروں میں چین کے عالمی نظام میں علمی کردار، کثیرالجہتی پالیسی، بنیادی ڈھانچے کی گلوبلائزیشن، ادارہ جاتی لچک، اقتصادی ترقی، غیر ملکی امداد، یورپ میں چین کی موجودگی، یورپی یونین کا ردعمل، سبز ترقیاتی پالیسی اور جوہری حکمت عملی جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
اس کتاب کو عالمی منظرنامے پر چین کی بڑھتی ہوئی حیثیت کے حوالے سے بروقت اور فکری کاوش قرار دیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ یہ کتاب ایشیا، یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے مختلف اسکالرز اور ماہرین کی تحقیق پر مبنی ہے جو چین کی 21ویں صدی میں ابھرتی حیثیت کو ہمہ جہت انداز میں پیش کرتی ہے۔
کتاب میں پاکستان سمیت متعدد ممتاز اداروں جیسے جارج ٹاؤن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ساؤ پالو، یونیورسٹی آف سرگودھا، اور یونیورسٹی آف ملایا کے ماہرین کی شمولیت اسے منفرد بناتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر، سفیر جوہر سلیم نے اس کتاب کو عالمی سطح پر علم میں اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اسے پاکستانی مدیران نے مرتب کیا اور پاکستانی اسکالرز نے قابل ذکر تحقیقی حصہ ڈالا۔
مقررین میں ڈاکٹر آدم سعود (بحریہ یونیورسٹی)، ڈاکٹر نجمدین بکرے (یونیورسٹی آف ملایا، ملائیشیا)، ڈاکٹر اعظم خان (یونیورسٹی آف سرگودھا)، ڈاکٹر رضوان زیب (ایئر وار کالج کراچی)، سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی، سابق صدر آئی پی آر آئی ڈاکٹر رضا محمد، اور ڈاکٹر بلال زبیر (CISS) شامل تھے۔
شرکاء نے کتاب کو چین کی سفارتی حکمت عملی، تکنیکی پھیلاؤ، جنوبی دنیا میں ادارہ جاتی موجودگی اور اس کی یورپ، افریقہ اور ایشیا میں پالیسیوں کے تجزیے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔